121

*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے لگی، ہائی ایس مالکان انسانی جانوں سے کھیلنے لگےجھنگ فیصل آباد روڈ پر موت کا رقص؛ 18 سیٹوں پر 23 سواریاں، سیکرٹری آر ٹی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لوٹنے لگی، ہائی ایس مالکان انسانی جانوں سے کھیلنے لگےجھنگ فیصل آباد روڈ پر موت کا رقص؛ 18 سیٹوں پر 23 سواریاں، سیکرٹری آر ٹی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان*
*جھنگ سے فیصل آباد روٹ پر چلنے والی ہائی ایس گاڑیوں نے مسافروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔ حالیہ لرزہ خیز ٹریفک حادثات میں درجنوں قیمتی جانوں کے ضیاع کے باوجود ٹرانسپورٹ مافیا کی ہوس کم نہ ہو سکی۔ “موت کے سوداگروں” نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 18 سیٹوں والی گاڑیوں میں 23 سے زائد سواریاں ٹھونسنا معمول بنا لیا ہے، جبکہ سیکرٹری آر ٹی اے اور متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔بارود کے ڈھیر پر سفر: پابندی کے باوجود گیس سلنڈرز کا استعمال جاری*
*حکومتی احکامات اور عدالتی سختی کے باوجود، کئی گاڑیوں میں اب بھی غیر معیاری اور خطرناک گیس سلنڈرز کا استعمال* *دھڑلے سے جاری ہے۔ مسافر ہر لمحہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر بٹھانا اور سلنڈرز کا موجود ہونا کسی بھی وقت ایک اور بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے، لیکن انتظامیہ کی آنکھیں تب کھلتی ہیں جب لاشیں سڑکوں پر بکھر جاتی ہیں۔سیکرٹری آر ٹی اے کی “مجرمانہ غفلت*”
*شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ روڈ پر چیکنگ کا نظام محض فوٹو سیشن تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ سیکرٹری آر ٹی اے کی مبینہ نااہلی اور چشم پوشی کے باعث ٹرانسپورٹرز بے لگام ہو چکے ہیں۔ عوامی سماجی حلقوں کا سوال ہے کہ کیا انتظامیہ ایک اور بڑے حادثے کا انتظار کر رہی ہے؟ چیک پوسٹوں پر تعینات عملہ ان بھری ہوئی گاڑیوں کو دیکھنے سے قاصر کیوں ہے؟*
*انسانی جانوں سے کھیلنے والے ان “موت کے تابوتوں” کے خلاف گرینڈ آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا*؟ *وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ جھنگ اور فیصل آباد کے* *عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور کمشنر فیصل آباد سے مطالبہ کیا ھے کہ جھنگ فیصل آباد روڈ پر جاری اس “قتلِ عام” کی کوشش کو روکا جائے۔ اوور لوڈنگ کرنے والی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ منسوخ کیے جائیں اور غفلت برتنے والے آر ٹی اے حکام کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں