*جھنگ(جاوید اعوان سے)ایس ڈی او ہائی وے آپے سے باہر، ’رائٹ ٹو انفارمیشن‘ ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں*
*ایس ڈی او ہائی وے کا ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار، کروڑوں کے روڈ پراجیکٹس میں ’کچھ گڑبڑ‘ کا شبہ*
*ضلع جھنگ میں سرکاری محکموں کی من مانی اور قانون شکنی عروج پر پہنچ گئی۔ محکمہ ہائی وے کے ایس ڈی او نے پنجاب حکومت کے “رائٹ ٹو انفارمیشن” (حقِ معلومات) قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے شہری کو مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا*۔ *شہری مہینوں سے دفتر کے چکر لگا کر تھک گیا، مگر افسران لیت و لعل سے کام لے کر معاملے کو دبانے میں مصروف ہیں*۔
*تفصیلات کے مطابق*:
*ایک مقامی شہری نے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت جھنگ گوجرہ روڈ اور فیصل آباد تا علی آباد روڈ کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے اہم ریکارڈ طلب کیا تھا۔ مذکورہ سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مٹیریل، فنڈز کی تفصیلات اور ٹھیکے کے قواعد و ضوابط کی معلومات مانگی گئی تھیں، تاہم ایس ڈی او ہائی وے سب ڈویژن جھنگ نے قانون کی پاسداری کرنے کے بجائے ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رکھی ہے*۔
*کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے*!
*عوامی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اگر سڑکوں کی تعمیر میں کوئی خورد برد نہیں ہوئی تو ریکارڈ چھپانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا ان کروڑوں روپے کے منصوبوں میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا ہے*؟ *شہری کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسر کا رویہ اس شک کو یقین میں بدل رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے*۔
*متاثرہ شہری نے میڈیا کے توسط سے ڈپٹی کمشنر جھنگ، علی اکبر بھنڈر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین غفلت کا فوری نوٹس لیں۔ شہری نے اپیل کی ہے کہ: مغرور افسر کو قانون کا پابند بنایا جائے*۔
*مطلوبہ ریکارڈ فی الفور فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں*۔
*عوامی فنڈز میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے*۔
*شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے نوٹس نہ لیا تو وہ پنجاب انفارمیشن کمیشن اور اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر جھنگ اس “بیوروکریٹک ہٹ دھرمی” کے خلاف کیا ایکشن لیتے ہیں*۔
95











