18

جھنگ ۔ شہر بھر میں منگائی کے بھوت بے لگام ۔ آئے روز پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی میٹنگز وقت کا ضیاع ۔ ناجائز منافع خور تنخواہوں کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے لوٹنے والے ضلعی افسران کے لیے کھلا چیلنج ۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا نام نہاد نظام سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے فوٹو سیشن تک محدود ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لیں شہریوں کی دہائی

جھنگ ۔ شہر بھر میں منگائی کے بھوت بے لگام ۔ آئے روز پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی میٹنگز وقت کا ضیاع ۔ ناجائز منافع خور تنخواہوں کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے لوٹنے والے ضلعی افسران کے لیے کھلا چیلنج ۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا نام نہاد نظام سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے فوٹو سیشن تک محدود ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لیں شہریوں کی دہائی ۔
جھنگ (جاوید اعوان سے) ضلع بھر میں ناجائز منافع خوری ۔ دن بدن خود ساختہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول سے مکمل باہر ۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے لباس اوڑھ کر کے نام نہاد عناصر سوشل میڈیا پر فوٹو وائرل کر کے سستی شہرت حاصل کرنے کے شوقین بن چکے ہیں۔جبکہ غریب عوام ان ناجائز منافع خوری کے روپ میں ڈاکوؤں کے نرغے میں آ گئے ہیں۔ سرکاری طور پر جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق شہریوں کو روز مرہ زندگی کے اشیاء خوردونوش کے سامان کا ملنا خواب بن چکا ہے ۔ دس روپے کا مال بیس روپے کا ۔ پچاس روپے کا سودا سو روپے کا ہے ۔ سادہ لوح شہریوں کی چیخ و پکار کوئی سننے کو تیار نہیں ۔ ضلع بھر میں زیادہ تر یہ منافع خور طبقہ سرکاری زمین پر مختلف روڈز ۔ اہم چوراہوں ۔ گلیوں بازاروں میں ناجائز قبضے کر کے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا مکروہ کاروبار کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔ میڈیا سروے کے دوران ان ناجائز منافع خوروں کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ۔ اسسٹنٹ کمشنر سمیت ان کے اہم ضلعی دفاتر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز آفیسران کے گھروں میں مفتی مال جاتا ہے ۔ اس کے علاؤہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق ہمیں سبزی منڈی سے بھی سامان نہیں ملتا ہے ہم ریٹ لسٹ کے مطابق کیسے سودے فروخت کریں ۔ یہ ریٹ لسٹیں ملتی ہیں دو تین روپے کی فوٹو کاپی ہمیں تیس روپے کی دی جاتی ہے یہ ہے سبزی منڈی میں غنڈہ گردی ۔ ڈپٹی کمشنر جھنگ کی آنکھوں کے سامنے یہ تمام کچھ مکروہ کاروبار کیا جاتا ہے ڈپٹی کمشنر جھنگ کی جرات نہیں ہے کہ بڑے بڑے پردھان منتری مگر مچھوں کے خلاف کاروائیاں کریں ۔ ہم غریبوں کو ذلیل وخوار کیا جاتا ہے ۔ جس پر ڈپٹی کمشنر کے ترجمان سے معلوم ہوا ہے کہ بلا تفریق کاروائیاں جاری رکھتے ھوئے مہنگائی کنٹرول کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ھے۔جس پر عوامی وسماجی کاروباری شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں