*جھنگ(جاوید اعوان سے)ایجوکیشن اتھارٹی کے دفتر سے کرپشن کی انکوائری فائل “غائب”، شہری کا سی ای او سے نوٹس لینے کا مطالبہ*
ضلع جھنگ کے محکمہ تعلیم میں مبینہ بدانتظامی اور فائلوں کی پراسرار گمشدگی کا انکشاف ہوا ہے۔ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تریموں ہیڈ کے ماسٹر قیصر علی کے خلاف کرپشن کی درخواست پر ہونے والی انکوائری رپورٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) کے دفتر سے مبینہ طور پر غائب کر دی گئی، جس پر سائل اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جھنگ کے رہائشی مدثر اقبال نے ماسٹر قیصر علی (گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تریموں ہیڈ) کے خلاف مبینہ کرپشن کے حوالے سے ایک تحریری درخواست گزاری تھی۔ اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم نے انعام شاہ (ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نیکوکارہ، تحصیل احمد پور سیال) کو بطور انکوائری آفیسر مقرر کیا تھا۔ذرائع کے مطابق انکوائری آفیسر انعام شاہ نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) سیکنڈری جھنگ کے دفتر میں جمع کروا دی تھی۔ تاہم، جب درخواست دہندہ مدثر اقبال نے انکوائری کی پیش رفت جاننے کے لیے متعلقہ کلرک حاجی آفتاب سے رابطہ کیا تو انہوں نے فائل کی موجودگی سے صاف انکار کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس ایسی کوئی انکوائری رپورٹ موصول ہی نہیں ہوئی۔درخواست دہندہ مدثر اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
ایک طرف کرپشن کے خلاف کارروائی کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف مکمل شدہ انکوائری فائل ہی دفتر سے غائب کر دی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بااثر ملزمان کو بچانے کے لیے فائل کو جان بوجھ کر دبا دیا گیا ہے یا اسے ضائع کر دیا گیا ہے
انہوں نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، گمشدہ فائل تلاش کروائی جائے اور کرپشن کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے ایجوکیشن اتھارٹی کے دفتر سے اہم فائل غائب ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سرکاری ریکارڈ کی حفاظت پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری دفاتر میں درخواستیں اور انکوائری رپورٹس محفوظ نہیں رہیں گی تو انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
75










