51

*عنوان: مودی کی انتہاپسندی: بھارت کے لیے زوال کا راستہ* *تحریر: حجاب طفیل مرکزی نائب صدر و مرکزی آرگنائزر پاک میڈیا کونسل پاکستان ۔۔۔۔۔*

*عنوان: مودی کی انتہاپسندی: بھارت کے لیے زوال کا راستہ*
*تحریر: حجاب طفیل مرکزی نائب صدر و مرکزی آرگنائزر پاک میڈیا کونسل پاکستان ۔۔۔۔۔*
دنیا کی تاریخ گواہ ھے کہ جب بھی کسی قوم کی قیادت عقل و حکمت کے بجائے انا، نفرت اور تعصب کے سائے میں کی جاتی ھے، تو وہ قوم تباہی کے دہانے پر جا کھڑی ہوتی ہے۔ آج بھارت کو بھی ایسی ہی ایک قیادت کا سامنا ہے — ایک ایسا شخص جس کی پالیسیوں کا مرکز صرف اور صرف نفرت، شدت پسندی اور جنگی جنون ہے۔ یہی شخص بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے۔

مودی کی جنگی پالیسی: بھارت کے لیے نقصان دہ
7 مئی 2025 کو بھارت نے “آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان پر میزائل حملے کیے۔ بھارتی بیانیہ یہ تھا کہ ان حملوں کا ہدف جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ جیسے گروہ تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان حملوں میں عام شہری نشانہ بنے — 31 معصوم پاکستانی شہید ہوئے۔ یہ حملے 22 اپریل کو پاہلگام کشمیر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے ردعمل میں کیے گئے، جس میں 25 بھارتی سیاح مارے گئے۔ بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا، گویا کشیدگی بڑھانا ہی اصل مقصد تھا۔

پاکستان کا مضبوط اور پرامن جواب
پاکستان نے نہ صرف ان حملوں کا بھرپور دفاع کیا بلکہ عالمی سطح پر بھارت کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، جس نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا، مگر دفاع کے لیے ہر قدم اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ بھارت کے میزائل حملے ناکام ہوئے، اور پاکستان نے بھارتی جارحیت کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا۔

بھارت کے اندرونی حالات اور عالمی تاثر
مودی کی جنگی پالیسیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے اندر بھی بے چینی پیدا کی ہے۔ بھارت کے سنجیدہ طبقے، صحافی، اور سوشل میڈیا صارفین بھی یہ کہہ اٹھے ہیں کہ مودی اپنی سیاست چمکانے کے لیے قوم کو جنگ کی آگ میں جھونک رہا ہے۔ “آپریشن سندور” کے بعد بھارت کی معیشت کو دھچکا لگا، فضائی اور تجارتی راستے بند ہوئے، سیاحت متاثر ہوئی، اور عالمی سطح پر بھارت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

نفرت کی سیاست کا انجام
مودی نے اپنی سیاست کی بنیاد نفرت پر رکھی — مسلمانوں کے خلاف نفرت، پاکستان کے خلاف نفرت، حتیٰ کہ بھارت کے اندر اقلیتوں کے خلاف نفرت۔ مگر دنیا بدل رہی ہے، اور اب ایسی پالیسیوں کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اگر بھارت نے مودی کی جنونی پالیسیوں کو نہ روکا، تو نقصان صرف پڑوسیوں کا نہیں ہوگا، بلکہ بھارت خود انتشار، غربت، اور عالمی تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔

نتیجہ: ہوش کے ناخن لو
پاکستان ایک پرامن ملک ہے، مگر اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اگر بھارت نے آئندہ بھی ایسی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کا سب سے بڑا نقصان بھارت ہی کو ہوگا۔ پاکستان کی فوج، قوم، اور قیادت ہر وقت چوکنا اور تیار ہے۔ مودی کو سمجھنا چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی کا دروازہ ہے — اور اگر وہ اسی راہ پر چلتا رہا تو تاریخ میں اس کا نام صرف تباہی کے ایک بڑے ذمہ دار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

پاکستان زندہ باد — امن کے ساتھ، طاقت کے ساتھ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں