95

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈپٹی ڈی ایچ او کا قانون کو ٹھوکر مارنے کا انکشاف، شہری کو ریکارڈ دینے سے انکار* *”میرے ہاتھ اوپر تک ہیں، کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا”، ڈپٹی ڈی ایچ او کے مبینہ ریمارکس؛ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈپٹی ڈی ایچ او کا قانون کو ٹھوکر مارنے کا انکشاف، شہری کو ریکارڈ دینے سے انکار*
*”میرے ہاتھ اوپر تک ہیں، کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا”، ڈپٹی ڈی ایچ او کے مبینہ ریمارکس؛ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی دھجیاں اڑا دیں*
تحصیل جھنگ میں محکمہ صحت کے افسران آپے سے باہر ہو گئے۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DDHO) تحصیل جھنگ نے پنجاب رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (RTI) کے تحت دی گئی شہری کی درخواست کو مبینہ طور پر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ افسر نے قانون کی پرواہ کرنے کے بجائے “فرمانِ عالی شان” جاری کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے کسی کی پرواہ نہیں، میرے ہاتھ اوپر تک ہیں اور میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا”۔
تفصیلات کے مطابق جھنگ کے ایک شہری نے شفافیت کو برقرار رکھنے اور عوامی آگاہی کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ اتھارٹی جھنگ کو ایک قانونی درخواست دی تھی۔ اس درخواست میں مندرجہ ذیل معلومات طلب کی گئی تھیں جو کہ سی ای او ہیلتھ نے کارروائی کے لیے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل جھنگ کو ارسال کر دی تھی
ڈپٹی ڈی ایچ او تحصیل جھنگ نے اب تک کتنے اتائی کلینک سیل کیے؟
* کتنے کلینکس کو باقاعدہ وارننگ جاری کی گئی؟
* کتنے کیسز مزید کارروائی کے لیے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ارسال کیے گئے؟
شہری کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز گزرنے کے باوجود اسے قانونی طور پر مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ جب بھی دفتر سے رابطہ کیا جاتا ہے تو کبھی افسر کے فیلڈ میں ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی سینئر کلرک یہ کہہ کر ٹال دیتا ہے کہ “ریکارڈ مکمل ہو رہا ہے، جلد دے دیا جائے گا”۔ دوسری جانب ڈپٹی ڈی ایچ او کا رویہ عوامی خادم کے بجائے کسی “طاقتور” حکمران جیسا ہے جو قانون کو جوابدہ ہونے سے انکاری ہیں۔متاثرہ شہری نے میڈیا کے توسط سے ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر اور سی ای او ہیلتھ اتھارٹی جھنگ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت مطلوبہ ریکارڈ فوری فراہم کیا جائے۔ اور قانون سے بالا تر ہونے کا دعویٰ کرنے والی افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔
اتائیت کے خلاف کی گئی (یا نہ کی گئی) کارروائیوں کا کچا چٹھا عوام کے سامنے لایا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری افسران ہی قانون کی دھجیاں اڑائیں گے تو عام آدمی کا انصاف پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں