*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیلتھ اتھارٹی کے حکم کی سرعام خلاف ورزی، ویکسینٹر کی سزا پر عملدرآمد کھٹائی میں پڑ گیا*
ضلع جھنگ میں محکمہ صحت کے اندر مبینہ ملی بھگت اور کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، یہاں چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے دی گئی سزا محض کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ناقص کارکردگی پر جہانزیب منیر نامی ویکسینٹر کو ایک سال کی سروس ضبط کرنے کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے باقاعدہ آرڈرز بھی جاری کیے گئے تھے، تاہم عرصہ دراز گزرنے کے باوجود نہ تو اس سزا پر عملدرآمد ہوا اور نہ ہی اسے ملازم کی سروس بک میں درج کیا گیا۔دفتر میں بیٹھے ‘سہولت کار’ سرگرم۔عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) جھنگ کے دفتر میں مختلف سیٹوں پر سالہا سال سے تعینات مخصوص ملازمین ایسے معاملات کو دبانے اور سزا یافتہ اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں “ماہر” مانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی ای او ہیلتھ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا گیا اور سزا یافتہ ویکسینٹر نہ صرف سزا سے بچا ہوا ہے بلکہ اس وقت اے ایس وی (ASV) کے ایڈیشنل چارج پر بھی کام کر رہا ہے۔اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
اس سنگین غفلت اور محکمانہ بے ضابطگی پر عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل شخصیات سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے:
* وزیر اعلیٰ پنجاب: مریم نواز شریف
* صوبائی وزیر وصوبائی سیکرٹری صحت پنجاب
* کمشنر فیصل آباد ڈویژن
* ڈپٹی کمشنر جھنگ: علی اکبر بھنڈر سے مطالبہ ھے کہ ویکسینٹر جہانزیب منیر کو دی گئی سزا پر فوری عملدرآمد کر کے سروس بک میں انٹری کی جائے۔ سزا پر عملدرآمد روکنے اور “سہولت کاری” فراہم کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ محکمہ صحت کے ریکارڈ کی پڑتال کی جائے تاکہ دیگر ایسے چھپے ہوئے معاملات سامنے آ سکیں۔
88










