190

*ناصر بشیر : ایک بے مثال ادبی شخصیت*

*ناصر بشیر : ایک بے مثال ادبی شخصیت*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پچھلی صدی کے آخری برسوں کی بات ہے میں ان دنوں پرائیویٹ سٹوڈنٹ کی حیثیت سے بی اے کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔میرا ایک مضمون جرنلزم بھی تھا۔ تب جرنلزم ماس کمیونیکیشن کی زبان میں میڈیا کے لیئے دو ٹرمز استعمال ہوا کرتی تھیں: ایک پرنٹ میڈیا اور دوسرا الیکٹرانک میڈیا لیکن زیادہ اہمیت اس زمانے میں پرنٹ میڈیا کو ہی حاصل تھی۔ اگرچہ الیکٹرانک میڈیا تیز ذرائع ابلاغ میں سے تھا کہ پل بھر میں خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچائی جاسکتی تھی جبکہ پرنٹ میڈیا میں یہ ممکن نہیں تھا۔ اس وقت موبائل فون تو تھا لیکن سوشل میڈیا کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی ریڈیو، ٹی وی، لینڈ لائن فون، اور فیکس پرنٹر وغیرہ شامل تھے۔ ٹی وی میں بھی صرف پی ٹی وی اور دوردرشن چینل تھے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بھرمار اور کیبل نیٹ ورکنگ سیٹ اپ تو کہیں بعد میں آئے۔ میرے جیسے طالب علم کے لیے اس زمانے میں اخبار، ڈائجسٹ، میگزین اور سلیبس کی کتابیں ہی تھیں۔ اخبار وغیرہ بھی کبھی کبھار اپنے گاؤں سے قریبی قصبہ ستراہ، میانوالی بنگلہ گئے تو کسی ہوٹل پر پڑھ لیا تو پڑھ لیا میرے گاوں میں تو اخبار بھی نہیں پہنچتا تھا۔اس زمانے میں اخبار کا ہفتہ وار اسپیشل ایڈیشن جمعہ کے روز میگزین کی شکل میں چھپتا تھا۔ بعد میں سرکاری سطح پر جب جمعہ کی جگہ اتوار کی چھٹی ہونے لگی تو اخبارات کے میگزین بھی اتوار کو چھپنے لگے۔ میں اپنے انہیں دنوں کی بات کر رہا ہوں کہ جنگ ، نوائے وقت اور روزنامہ پاکستان اور انگریزی میں ڈان میرے پسندیدہ اخبارات تھے۔ نوائے وقت میں عطا الحق قاسمی کا روزن دیوار سے کالم ہوتا تھا۔بعد میں اجمل نیازی صاحب کا کالم بے نیازیاں بھی اس میں چھپنے لگا تھا۔ جنگ میں ارشاد احمد حقانی، حسن نثار، عبدالقادر حسن، احمد ندیم قاسمی، نفیس صدیقی، امجد اسلام امجد، رحمت علی رازی منو بھائی اور حامد میر کے کالم پڑھنے والے ہوتے تھے۔ جبکہ روزنامہ پاکستان میں مجیب الرحمن شامی، کا کالم اچھا ہوتا روزنامہ پاکستان میں اگرچہ بہت سے لوگ کالم لکھتے تھے لیکن مجھے سب سے اچھا کالم ناصر بشیر کا “چیک پوسٹ” لگتا تھا۔ان کے کالم میں شعر و ادب کا بڑاعمل دخل ہوا کرتا تھا۔ان کے ہر کالم میں اساتذہ کے بہترین شعر ہوتے۔نئی پرانی کتابوں کا تعارف ہوتا۔شخصیات کے مختلف پہلو ہوتے۔لاہور کی ادبی و ثقافتی زندگی کی چہل پہل ہوتی۔غرض یہ کہ ان کے کالم زندگی کی ہر جہت لیے ہوئے ہوتے تھے۔سیاست پر وہ کم ہی لکھتے تھے لیکن اگر کبھی سیاست پر لکھتے تو اس میں بھی ادبی چاشنی ضرور ڈال دیا کرتے تھے۔ان کے کالم کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ انسانیت کی بات کی۔ان شخصیات اور اداروں کے بارے میں لکھا جو انسانی فلاح کے لیے سرگرم و مستعد رہے۔ان کے زمانے میں روزنامہ”پاکستان” کا ادبی ایڈیشن اخبار کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ہر بڑے سے بڑا شاعر اور ادیب اس میں چھپنا چاہتا تھا۔ناصر بشیر ادبی ایڈیشن کے نگران کے طور پر اخبار کے فورم میں بڑی بڑی تقریبات کرتے جن میں احمدندیم قاسمی،منیر نیازی،قتیل شفائی،عطاالحق قاسمی،امجد اسلام امجد،مستنصر حسین تارڑ،عبداللہ حسین،عبداللہ ملک،حمید اختر،حسن نثار،خالد احمد،نوشی گیلانی،نجیب احمد،جعفر بلوچ ،اعزاز احمد آذر، افتخار مجاز اور ان جیسے دیگر بڑے لوگ شریک ہوتے رہے۔
بس یوں سمجھیے کہ میری ادبی شخصیت کی تکمیل ناصر بشیر کی تحریریں پڑھ کر ہوئی۔مجھے بچپن ہی میں ان کے نام،کام اور مقام سے آگاہی ہو چکی تھی۔1995 میں ان کا پہلا شعری مجموعہ “منظر بدل گئے” چھپا تھا جس کی دھوم مچ گئی تھی۔آج بھی یہ مجموعہ اپنی مثال آپ ہے۔اس کی ٹائٹل غزل زبان زد عام ہو چکی تھی۔
منظر بدل گئے ،پس منظر بدل گئے
حالات اپنے شہر کے یکسر بدل گئے
سورج کے ڈوبنے پہ نہ حیراں ہوئے کبھی
اب سوچتے ہیں کتنے کیلنڈر بدل گئے
قائم ہے اک روایت دیرینہ ظلم کی
بازو بدل گئے کبھی خنجر بدل گئے
کیا کچھ بنام عدل یہاں ہو نہیں رہا
جو فیصلے دیے گئے،اکثر بدل گئے
پہلے سے خدوخال نہ پہلے سے ہیں خیال
کتنا ہم ایک سال کے اندر بدل گئے
گویا ان کی شخصیت سے یک گونا محبت اور غائبانہ تعارف و تعلق پیدا ہوگیا تھا۔میں ان سے ملنا چاہتا تھا لیکن ملاقات کی کوئی صورت ہی نہیں بن پا رہی تھی۔
ایک شام میں لاہور اردو بازار سے گزرتے ہوئے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی طرف پیدل جا رہا تھا۔ اورینٹل کالج کی دیوار کے ساتھ فٹ پاتھ پر پرانی کتابیں پیچنے والوں نے کتابوں کو ترتیب سے سجایا ہوا تھا۔میں وہاں کتابوں کی تاک جھانک کر رہا تھا کہ میری نظر ناصر بشیر کے مجموعے “منظر بدل گئے” پر پڑی۔میں نے جھٹ سے خرید لیا۔اس مجموعے میں چھوٹی اور بڑی بحر میں کل ستر غزلیں شامل تھیں۔اس کا دیباچہ شہزاد احمد نے لکھا۔انھوں نے دیباچے میں ناصر بشیر کے بارے میں لکھا تھا کہ ناصر بشیر غزل میں تکمیلیت پسندی کا قائل ہے۔وہ ایسا شعر کہتا ہے جس کی چاروں چولیں مضبوط ہوتی ہیں اور نوجوانوں کی سی بچگانہ اور سطحی رومانیت ان کی شاعری میں قطعا” دکھائی نہیں دیتی۔شہزاد صاحب نے یہ بات شاید اس لیے لکھی تھی کہ انھی دنوں کئی ابھرتے ہوئے شاعر بچگانہ اور سطحی رومانیت کو اپنے سر کا تاج بنائے ہوئے تھے۔اس کتاب کا فلیپ احمد ندیم قاسمی نے لکھا تھا۔انھوں نے بھی ناصر بشیر کی انفرادیت کو تسلیم کیا تھا۔یہ کتاب آج بھی میرے ذاتی کتاب خانے میں موجود ہے۔یوں سمجھیے کہ اس کتاب کی صورت میں ناصر بشیر ہمیشہ میرے ساتھ رہے ہیں۔لیکن ان سے ملاقات کی چنگاری دل میں کہیں سلگتی رہی۔مجھے صرف اتنا پتا تھا کہ وہ ان دنوں گورنمنٹ دیال سنگھ کالج لاہور میں اردو کے پروفیسر ہیں اور روزنامہ پاکستان میں کالم لکھتے ہیں۔پھر میں نے بھی بی اے کے بعد قائد اعظم لا کالج ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایل ایل بی میں داخلہ لے لیا۔ یوں زندگی کی مصروفیات مزید بڑھ گئیں۔ ملکی حالات میں کافی تبدیلیاں آچکی تھیں۔نئے نئے پرائیویٹ ٹی وی، ریڈیو چینلز اور کیبل نیٹ ورکنگ کی وجہ سے ذرائع ابلاغ رسل ورسائل و آمدورفت میں بہت تیزی آگئی تھی۔ پچھلی صدی نئی صدی میں تبدیل ہوچکی تھی۔ انٹرنیٹ کمپیوٹر موبائل فون اور سوشل نیٹ ورکنگ میں فیس بک ای میل وغیرہ متعارف ہوچکی تھیں۔لوگ ایک دوسرے سے دور رہ کر بھی آپس میں سوشل کنٹیکٹ میں آچکے تھے۔میرا بھی اسی طرح پہلے فیس بک پر ناصر بشیر صاحب سے رابطہ ہوگیا۔ملاقات تو نہ ہوسکی لیکن فون پر رابطہ ہو گیا۔یوں میرا بھی ان سے بھائیوں جیسا تعلق بن گیا۔جب کبھی ان سے بات ہوتی ، ہمیشہ ایک دلی محبت اور شفقت سے پیش آتے۔شعر و ادب ، سیاحت و تاریخ کی کتابوں پر بات ہوتی اور لاہور کی علمی ادبی فضا، ادبی محفلوں اور مشاعروں کی دنیا کی ڈھیروں باتیں ہوتی ہیں۔میں ان سے بات چیت کر کے اپنی علمی تشنگی کو دور کرتا ہوں۔ ان کی پرمغز علمی ادبی باتیں خیال کی نئی راہیں سجھاتی ہیں۔ میں اپنی بیٹی ام عمارہ کے کالج میں داخلے کے لیے لاہور گیا تو ان کا کالج گورنمنٹ دیال سنگھ کالج تھا جہاں وہ پڑھاتے ہیں۔ میں نے ان سے فون پر رابطہ کیا۔ کہنے لگے: کالج ہی میں آجائیں۔ ہم باپ بیٹی ان کے کالج پہنچے تو بہت محبت اور شفقت سے ملے۔ میری بیٹی کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا۔ اس کے لیے پہلے جوس اور پھر چائے منگوائی۔ پھر پورے کالج کا وزٹ کروایا۔پھر میری بیٹی کے کالج فون کرکے اپنی ایک عزیزہ پروفیسر صاحبہ کو میری بیٹی کا خیال رکھنے کے حوالے سے کال کی۔ میری گاڑی میں کچھ کتابیں ہمیشہ پڑی رہتی ہیں۔میری بیٹی نے ایک کتاب جناب ناصر بشیر کو گفٹ کی۔ جواب میں ناصر بشیر صاحب نے ہم دونوں باپ بیٹی کو ایک ایک کتاب اپنے آٹو گراف سے عنایت فرمائی اور ہمارے ساتھ یادگار تصویریں بھی بنوائیں۔ میری بیٹی کو بھی میری وجہ سے تھوڑا بہت علم وادب سے لگاو ہے اس لیے وہ ان سے مل کر بہت خوش ہوئی۔میں نے باتوں باتوں میں انھیں بتایا کہ میں تو طالب علمی کے زمانے ہی سے آپ کو پڑھتا چلا آ رہا ہوں۔میں نے محسوس کیا کہ میری یہ بات سن کر ان کی انا کا غبارہ سکڑ کر رہ گیا۔ان کا عجز اور انکسار مزید بڑھ گیا۔
میں نے ان سے مل کر محسوس کیا کہ ان میں بڑے لوگوں والی ساری باتیں موجود ہوں۔بڑوں کا نام ہمیشہ ادب سے لیا۔چھوٹوں سے شفقت کا رویہ رکھا۔نئے آنے والوں کو راستہ دیا بھی اور سجھایا بھی۔ہر ایک کے ساتھ ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔انسانیت کی خدمت کرنے والے انسان دوست اور شریف النفس آدمی ہیں۔ پاک ٹی ہاؤس، چوپال ناصر باغ ، اوپن ائیر تھیٹر یا جم خانہ باغ جناح الحمرا اور دیگر کسی بھی جگہ علمی ادبی تقریبات ہوں میرے ممدوح ناصر بشیر ان میں ضرور شامل ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق تو اولیاء کرام کی سرزمین ملتان سے ہے لیکن برسوں سے لاہور میں رہ کر علم و ادب کی روشنی بانٹ رہے ہیں۔ خیر تقسیم کر رہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ان پر ایم۔فل تک کے مقالے لکھے گئے لیکن کبھی اسے اپنی دستار کا پھول بنا کر پیش نہیں کرتے۔ اصل میں تو یہی لوگ ہیں جو زمین کا نمک ہیں۔ وطن کی مٹی کا حق ادا کرنے والے یہ وہ لوگ ہیں جن سے آپ پہلی بار بھی ملیں تو لگتا ھے اس شخص سے تو برسوں سے شناسائی ھے۔ یہی لوگ ہیں جو دلوں میں بسنے والے ہیں جو حب الوطنی بھائی چارے،انسانیت علم اور محبت کا درس دیتے ہیں۔
شاہد محمود سیالکوٹ
24/12/2025

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں