*اٹھارہ ہزاری(جاوید اعوان سے)عوامی صحت کے ساتھ سنگین مذاق، ٹی ایچ کیو ہسپتال ’لاوارث‘ ھو گیا۔مریض بعد میں آتا ھے، ریفر کی چٹ پہلے بن جاتی ھے؛ مستقل ایم ایس کی عدم تعیناتی سے نظامِ صحت مفلوج*
تحصیل اٹھارہ ہزاری کے عوام کی بدقسمتی کا سورج غروب نہ ہوسکا، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال عرصہ دراز سے مستقل ایم ایس (MS) سے محروم ہے۔ ہسپتال کے انتظامی معاملات “ایڈہاک ازم” کی بھینٹ چڑھ گئے، جبکہ سیاسی اشرافیہ کی خاموشی نے غریب عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
اہم انکشافات اور عوامی شکایات: نااہل انتظامیہ کا راج: ذرائع کے مطابق، ہسپتال کا چارج ایک ایسے آرتھوپیڈک سرجن کو دیا گیا ہے جنہیں انتظامی امور کا سرے سے تجربہ ہی نہیں۔ سارا ہسپتال “ڈھنگ ٹپاؤ” پالیسی پر چل رہا ہے اور قائم مقام ایم ایس کی توجہ ہسپتال کی بہتری کے بجائے مبینہ طور پر اپنی ‘دہاڑیوں’ پر ہے۔
ریفرل مافیا کا غلبہ: عوامی حلقوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال میں مریض علاج کی امید لے کر بعد میں پہنچتا ہے، جبکہ اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ ریفر کرنے کی پرچی پہلے تیار ہوتی ہے۔ ہسپتال محض ایک “پوسٹ آفس” بن کر رہ گیا ہے۔ سیاسی اشرافیہ کی بے حسی: علاقے کے سیاسی “بڑے” چین کی بانسری بجا رہے ہیں کیونکہ ان کے اپنے اور اہل خانہ کے علاج لاہور اور ملتان کے مہنگے ترین نجی ہسپتالوں میں ہوتے ہیں۔ غریب کسان اور عام آدمی سرکاری ہسپتال کی بدحالی کی چکی میں پس رہا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سے رحم کی اپیل
عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری صحت اور ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ: فوری طور پر تجربہ کار اور مستقل ایم ایس تعینات کیا جائے۔ اضافی چارج والے ڈاکٹروں سے انتظامی اختیارات واپس لیے جائیں۔
ہسپتال میں ریفر کرنے کے غیر ضروری کلچر کا خاتمہ کر کے ادویات اور علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال نہ بدلی تو وہ احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔
78










