*اٹھارہ ہزاری(جاوید اعوان سے)’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے دعووں کی قلعی کھل گئی، ختم نبوت چوک گندے پانی کا جوہڑ بن گیا.کروڑوں کے فنڈز ٹھکانے لگ گئے مگر شہر کے مرکزی چوک میں بدبو اور غلاظت کے ڈیرے؛ عوامی حلقے پھٹ پڑے*
وزیر اعلیٰ پنجاب کے ‘ستھرا پنجاب’ مشن کو اٹھارہ ہزاری انتظامیہ نے ہوا میں اڑا دیا۔ ایک طرف شہر کی خوبصورتی کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز کے استعمال کے دعوے، تو دوسری جانب شہر کا دل کہلانے والا ’ختم نبوت چوک‘ سیوریج کے گندے پانی میں ڈوب گیا۔ انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث پورا چوک تعفن زدہ جوہڑ کا منظر پیش کر رہا ہے، جس نے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ھے۔تفصیلات کے مطابق، اٹھارہ ہزاری کو ماڈل سٹی بنانے کے لیے کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ شہر کے بالکل وسط میں واقع ختم نبوت چوک میں پورے شہر کا گندہ پانی جمع ہو رہا ہے۔ یہ گندا پانی نہ صرف راہگیروں اور تاجروں کے لیے عذاب بن چکا ہے بلکہ حکومت کے ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کا بھی سرعام مذاق اڑا رہا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ “شاید انتظامیہ کو یہ بدصورتی نظر نہیں آ رہی یا وہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے بیٹھی ھے”۔
سماجی اور عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ: گندے پانی کی وجہ سے مچھروں کی بہتات اور بیماریوں کے پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
مرکزی چوک ہونے کی وجہ سے یہاں سے گزرنا محال ہو چکا ہے، جس سے کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
انتظامیہ صرف کاغذی کارروائیوں اور فوٹو سیشن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اہلیانِ اٹھارہ ہزاری اور سماجی رہنماؤں نے اسسٹنٹ کمشنر اٹھارہ ہزاری اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلیں اور ختم نبوت چوک کی ابتر صورتحال کا خود معائنہ کریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سیوریج کے نکاس کا مستقل حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ھوں گے۔
161










