97

*میری پسندیدہ کتابیں*

*میری پسندیدہ کتابیں*

میری پسندیدہ کتابوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ اگر ان سب کا ذکر کیا جائے تو شاید ایک پوری کتاب درکار ہو، تاہم اختصار کے ساتھ ان چند کتابوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جن کے بغیر میری زندگی مجھے بے رنگ، بے ذائقہ اور بے معنی سی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ کتابیں ہیں جنہوں نے سوچ دی، شعور دیا، سوال کرنا سکھایا اور زندگی کو دیکھنے کا زاویہ عطا کیا۔

عبداللہ حسین کا اداس نسلیں، نشیب، قید، باگھ، رات، نادار لوگ، قرۃالعین حیدر کا آگ کا دریا،آخر شب کے ہم سفر، عصمت چغتائی کا لحاف، خدیجہ مستور کا آنگن، منشی پریم چند کا گیئودان، الطاف حسین حالی کی حیات جاوید، مولوی عبدالحق کی چند ہم عصر، محمد حسین آزاد کی آب حیات، شوکت صدیقی کا خدا کی بستی، جانگلوس، کیمیا گر، عزیز احمد کا آگ، گریز، اور ، ایسی بلندی ایسی پستی، انتظار حسین کا بستی، چراغوں کا دواں، آخری آدمی، ممتاز مفتی کا علی پور کا ایلی اور الکھ نگری،رام دین، لبیک، برگیڈیر صدیق سالک کی کتابیں، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دکھا، پریشرککر، تادم تحریر، ایمرجنسی، ہمہ یاراں دوزخ، سلیوٹ، شفیق الرحمان کی حماقتیں، دجلہ، مدوجزر، لہریں، کرنیں، شگوفے، مشتاق احمد یوسفی کی سرگزشت، آب گم، چراغ تلے، خاکم بدہن، کرنل محمد خاں کی بجنگ آمد، بسلامت روی، بزم آرائیاں،برگیڈیر صولت رضا کی کاکولیات، پیچ و تاب زندگی، مستنصر حسین تارڑ، کی پیار کا پہلا شہر، خانہ بدوش، اندلس میں اجنبی، نکلے تیری تلاش میں، راکھ، بہاو، قلعہ جنگی ، جیپسی، پکھیرو، قربت مرگ میں محبت، ڈاکیا اور جولاہا، اعتزاز احسن کی سندھ ساگر جو انگریزی ورشن Sind Saga کا ترجمہ ہے، بانوقدسیہ کا راجہ گدھ، الطاف فاطمہ کا دستک نہ دو، قیصر تمکین کی سواستکا، صدی کے موڑ پر، اشفاق احمد کا سفر در سفر، ایک محبت سو افسانے، گڈریا، محمد خالد اختر کی چاکیواڑہ میں وصال، سجاد ظہیر کی لندن کی ایک رات، ایس ایم ظفر کی میرے مشہور مقدمے، مختار مسعود کی آواز دوست، لوح ایام، سفر نصیب، فضل کریم فضلی کا خون جگر ہونے تک، جیون خان کا ناول دیپتی جو بنگلہ دیش کی علیحدگی کے پس منظر میں ہے، اور اسی تناظر میں طارق محمود کا اللہ میگھ دے، دام خیال، قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ، سرخ فیتہ، جاوید اقبال کی چاک گریباں اپنا، اور زندہ رود، جاوید ہاشمی کی، ہاں میں باغی ہوں، اور تختہ دار کے سائے میں، یوسف رضا گیلانی کی چاہ یوسف سے صدا، شوکت علی شاہ کی اجنبی اپنے دیس میں، اور سلگتے ساحل،سید مینو چہر کی میرے شب و روز، اور کاروان گزراں، الطاف قریشی کی ملاقاتیں کئی، احمد ندیم قاسمی کی کپاس کا پھول، جلال و جمال، محیط، بگولے، ڈاکٹر سلیم اختر کی اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ، ڈاکٹر سدید انور کی اردو ادب کی تحریکیں، شورش کشمیری کی،، موت سے واپسی،، بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل ، مولانا ابو الکلام آزاد کی غبار خاطر ، اور تفسیر القرآن،انڈیا ونس فریڈم ، پروفیسر خورشید احمد کی اسلامی نظریہ حیات، پروفیسر حمید اللہ کی تاریخ اسلام، قاسم فرشتہ کی تاریخ فرشتہ، جاوید صدیقی کی میرے محترم، نعیم صدیقی کی محسن انسانیت، صفی الرحمن مبارکپوری کی سیرت پر الرحیق المختوم، محمد ولی رازی کی ، ہادی عالم، مولانا عبدالمجید سالک کی سرگزشت، علی عباس جلال پوری کی ، روایت تمدن قدیم، روح عصر ، سلیم اشرف کی آمو سے راوی تک، اور کہانی تیری قلم میری، علامہ عبدالستار عاصم کی،، ماں،، مولوی احمد علی کی ،، تزک جہانگیری،، ستار طاہر کی ،، دنیا کی سو عظیم کتابیں۔

یہ تو محض چند کتابوں کا ذکر ہے جو میری لائبریری میں سامنے جھانکتی نظر آ گئیں۔ ان سب کو پڑھ کر انسان اپنے اندر ایک نئی زندگی کی جنبش محسوس کرتا ہے۔ کسی دن اگر فرصت ملی تو ان کتابوں کا بھی ذکر کروں گا جو سیاست، قانون اور انگریزی ادب سے تعلق رکھتی ہیں۔

آج کی دنیا میں زندگی کی مصروفیات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ مطالعے کے لیے وقت نکالنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے، مگر اس کے باوجود دل کو زندہ رکھنے اور فکر کو تازہ رکھنے کے لیے اچھی کتابیں پڑھنا ناگزیر ہے۔ یہی کتابیں ہمارے باطن کو خونِ تازہ فراہم کرتی ہیں۔

ایک شخص سے کسی نے سوال کیا
“تم کس سے مانوس ہو؟”
اس نے اپنی کتابوں پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“ان سے۔”
پھر پوچھا گیا:
“اور لوگوں میں کن سے؟”
اس نے جواب دیا:
“جو ان کتابوں میں بولتے ہیں۔”
28/02/2025

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں