92

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیڈ تریموں بیراج کی مکینیکل ورکشاپ سے کروڑوں کی مبینہ چوری، ایس ڈی او اور سب انجینئر کی مبینہ ملی بھگت کا سنگین الزام*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیڈ تریموں بیراج کی مکینیکل ورکشاپ سے کروڑوں کی مبینہ چوری، ایس ڈی او اور سب انجینئر کی مبینہ ملی بھگت کا سنگین الزام*
*محکمہ انہار پنجاب کی مکینیکل ورکشاپ تریموں سے لاکھوں روپے مالیت کا سرکاری سامان چوری ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے*۔ *ذرائع کے مطابق سالانہ بندی کے دوران تانبہ، پیتل اور دیگر قیمتی میکینیکل سامان منظم طریقے سے نکالا جا رہا ہے، جبکہ ذمہ دار افسران کے خلاف تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ذرائع کے مطابق سابقہ ایکسین آفتاب بھٹی نے 10 جنوری 2025 کو مکینیکل ورکشاپ تریموں کا تفصیلی دورہ کروانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں دو ایس ڈی اوز اور تین سب انجینئر شامل تھے*۔ *کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں 84 مختلف اقسام کے ایسے سامان کی نشاندہی کی تھی جو رجسٹر میں درج نہیں تھا (زائد سامان) اور مختلف کمروں میں نمبر وار موجود پایا گیا۔ کمیٹی نے موقع پر فوٹیج اور ویڈیوز بھی بنائیں جو رپورٹ کے ساتھ جمع کروائی گئیں*۔
*سابقہ ایکسین کی جانب سے زائد سامان کو سرکاری ریکارڈ میں لینے کی ہدایات جاری کی گئیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ بعد ازاں موجودہ ایکسین حامد خلق کو لاکھوں روپے مالیت کے سامان کی چوری سے آگاہ کیا گیا، جس پر انہوں نے بھی ایک نئی کمیٹی تشکیل دی اور سالانہ بندی 2026 سے قبل ورکشاپ کا وزٹ کر کے رپورٹ طلب کی۔حیران کن طور پر نئی کمیٹی میں بھی وہی افسران شامل تھے جو سابقہ کمیٹی کا حصہ رہ چکے تھے، جبکہ پہلے سے موجود رپورٹ اور ویڈیوز مبینہ طور پر غائب کر دی گئیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سالانہ بندی 2026 (10 جنوری 2026 سے شروع) کے دوران ایس ڈی او اور سب انجینئر اپنے عملے کے ہمراہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے مالیت کا سامان ورکشاپ سے نکال رہے ہیں۔مزید سنگین الزام یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تقریباً 70 سے 80 لاکھ روپے مالیت کا سامان فروخت کر کے اس کی رقم میں سے حصہ بعض اعلیٰ افسران تک پہنچایا گیا*، *جس کے باعث معاملہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شہری و سرکاری حلقوں نے سیکرٹری انہار پنجاب اور چیف انجینئر انہار زون ملتان سے مطالبہ کیا ہے کہ مکینیکل ورکشاپ تریموں کا فوری غیر جانبدارانہ معائنہ کروایا جائے، سابقہ زائد سامان کی رپورٹس اور ویڈیوز کی روشنی میں ذمہ داران کا تعین کیا جائے، قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ریکوری کی جائے اور ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں