*جھنگ(جاوید اعوان سے)اٹھارہ ہزاری ہسپتال میں لاکھوں کے مبینہ غبن کا خدشہ، لیڈی ڈینٹل سرجن کٹہرے میں*
*تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال (THQ) اٹھارہ ہزاری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ریکارڈ کی عدم فراہمی کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا۔ ڈینٹل سرجن ڈاکٹر صدف رانی کی تعیناتی سے اب تک مریضوں سے وصول کی گئی فیسوں کا سرکاری خزانے میں جمع ہونے کا ریکارڈ “غائب” کر دیا گیا*۔ *شہری کی جانب سے رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) کے تحت مانگی گئی معلومات فراہم کرنے میں ہسپتال انتظامیہ کے پس و پیش نے کئی سوالات کھڑے کر دیے.حقائق کیا ہیں*
*ایک مقامی شہری نے قانون کا سہارا لیتے ہوئے ڈاکٹر صدف رانی کے دورِ تعیناتی میں مریضوں کے معائنے کی مد میں وصول کی جانے والی سرکاری فیسوں کی رسیدات اور سرکاری خزانے میں جمع ہونے والے واجبات کی تفصیلات طلب کی تھیں*۔ *تاہم، عرصہ دراز گزرنے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹر کی جانب سے ریکارڈ کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے*، *جس سے دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ “پوری دال کالی” نظر آتی ہے.شہریوں کا کہنا ہے کہ*
*سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں سے لی گئی فیس آخر جا کہاں رہی ہے.کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہو رہی ہے* *یا کسی کی جیب کی نذر ہو رہی ہے؟ ریکارڈ چھپانا اس بات کی دلیل ہے کہ کہیں نہ کہیں بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی کی جا رہی ہے*۔
*قانون کے تحت معلومات فراہم کرنا ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، لیکن یہاں خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ھے۔متاثرہ شہری اور جھنگ کے عوامی حلقوں نے میڈیا کے توسط سے ڈپٹی کمشنر/ایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ڈاکٹر صدف رانی کے دور کا مالی آڈٹ کروایا جائے۔ آر ٹی آئی (RTI) کے تحت مانگا گیا ریکارڈ فی الفور پبلک کیا جائے۔ اگر سرکاری رقم میں خورد برد ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے*۔
89











