*جھنگ(جاوید اعوان سے)سی ای او ایجوکیشن عقیلہ انتخاب خان کے خلاف کرپشن کے الزامات، آڈٹ ٹیم نے گھیرا تنگ کر دیا۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تعیناتی کے دوران 3.266 ملین روپے کے مبینہ آڈٹ پیرا کا انکشاف؛ عوامی حلقوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی اور معطلی کا مطالبہ*
*ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ کی موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) عقیلہ انتخاب خان سابقہ تعیناتی کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے باعث آڈٹ کے ریڈار پر آ گئی ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ موصوفہ نے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اپنی تعیناتی کے مختصر عرصے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی، جس کے ثبوت اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں*۔
*مالی بے ضابطگیوں کی تفصیلات ذرائع کے مطابق میڈم عقیلہ انتخاب خان اکتوبر 2024 سے مئی 2025 تک ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن تعینات رہی ہیں۔ اس قلیل مدت کے دوران ان پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد ہوئے* *ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق صرف ایک آڈٹ پیرا میں 3.266 ملین روپے کی خطیر رقم کی خورد برد کا انکشاف ھوا ھے ۔آڈٹ حکام نے اس رقم کے حوالے سے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں، جن کی مزید تفصیلات جلد منظر عام پر لائے جانے کا امکان ھے۔مذکورہ* *الزامات کے حوالے سے جب میڈیا ٹیم نے سی ای او ایجوکیشن جھنگ عقیلہ انتخاب خان کا موقف لینے کے لیے ان کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا تو ان کا فون بند پایا گیا۔ بعد ازاں، جب ان کے دفتر کا دورہ کیا گیا تو عملے نے بتایا کہ “میڈم فیلڈ وزٹ پر ہیں اور دفتر میں موجود نہیں ہیں*۔”
*جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم، سیکریٹری ایجوکیشن، کمشنر فیصل آباد اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سے پرزور مطالبہ کیا ھے کہ عقیلہ انتخاب خان کے خلاف مالی بدعنوانی کی اعلیٰ سطحی انکوائری فوری طور پر شروع کی جائے۔ شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ان کو فوری طور پر عہدے سے معطل کیا جائے تاکہ وہ ریکارڈ میں ردو بدل نہ کر سکیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیم جیسے مقدس شعبے میں کرپشن کرنے والے افسران کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور وزیر اعلیٰ کے “کرپشن فری پنجاب” ویژن کے تحت ایسے عناصر کا کڑا احتساب ھونا چاہیے*۔
104











