21

*وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد یکم جولائی سے کون کون سی اشیا مہنگی ملیں گی؟*

*وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد یکم جولائی سے کون کون سی اشیا مہنگی ملیں گی؟*
طویل فہرست سامنے آگئی
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی جس کا نفاذ یکم جولائی سے ھوگا۔

جانوروں کے لیے کھل اور دیگر سولڈ باقیات سمیت دکانوں پر فروخت سویاں ، شیر مال ، بن اور رس پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ھے ، پولٹری فیڈ ، مویشی کی فیڈ ، سورج مکھی کے بیج سے تیار خوراک پر بھی 10 فیصد ٹیکس عائد ھوگا۔

500 ڈالر سے کم قیمت والے درآمدی موبائل فون پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ، اس کے علاوہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔

موبائل فون کے پرزہ جات کی درآمد اور مقامی تیار موبائل فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے ، لیڈ بیٹریاں تیار کرنیوالے رجسٹرڈ افراد پر سیلز ٹیکس 75 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد عائد کردیا گیا۔

رجسٹرڈ افراد کیلئے سیمنٹ کی تیاری میں استعمال جپسم کی سپلائی پر 80 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا ، کوئلہ کی سپلائی ، پیپر بورڈ اور ویسٹ پیپر کی اسپلائی پر بھی 80 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا۔

پلاسٹک ویسٹ ، کرش اسٹون کی اسپلائی پر بھی 80 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ، ہربل اور ہومیو پیتھک ادویات پر ٹیکس رعایت ختم کر دی گئی۔

نزلہ ، زکام اور کھانسی کے جوشاندے ، ہربل معجون ، مربے اور سفوف ، مختلف ہربل شربت اور گولیوں ، ہومیو پیتھک کی سیکڑوں ادویات سمیت ہومیو پیتھک کے تمام شربت اور کریم پر سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔

ٹیکس فراڈ اور ٹیکس چوروں کو جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزائیں دینے کا قانون منظور بھی کرلیا گیا۔ ٹیکس چوروں پر 25 ہزار روپے یا چوری شدہ ٹیکس کے برابر جرمانہ عائد ہوگا۔

50 کروڑ روپے تک کی ٹیکس چوری یا فراڈ پر 5 سال تک قید کی سزا دی جائے گی ، ایک ارب یا اس سے زائد کے ٹیکس فراڈ یا چوری پر 10سال قید کی سزا متعارف کرائی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں