61

*جھنگ۔۔۔۔۔۔2024..2025*. *کے ظالمانہ اور غیر منصفانہ بجٹ میں بجلی کے بلوں میں بے جا ٹیکسز نے غریب عوام کا بھرکس نکال دیا حکمرانوں کی تمام تر توجہ غریب متوسط عوام کو نچوڑنے پر مذکور رھی ھے*

*جھنگ۔۔۔۔۔۔2024..2025*.
*کے ظالمانہ اور غیر منصفانہ بجٹ میں بجلی کے بلوں میں بے جا ٹیکسز نے غریب عوام کا بھرکس نکال دیا حکمرانوں کی تمام تر توجہ غریب متوسط عوام کو نچوڑنے پر مذکور رھی ھے* بجلی کے بلوں میں 31 ٹیکسز لگا کر حکمران طبقے نے اپنے لیے عیاشی کا ساماں پیدا کر دیا ھے آئی ایم ایف نے اشرافیہ پر ٹیکس لگانے کا کہا لیکن اشرافیہ نے خود کو ٹیکسز سے بری الزمہ قرار دے کر اپنی تنخواہوں میں دوگنا اضافہ کرنے کی سمری منظور کروا لی اور تنخواہ دار اور غریب طبقے پر ٹیکس لگانے کی منظوری دے کر آرام سے بجٹ پاس کروا لیا وزیر خزانہ کی بجلی یونٹ پر عجیب پالیسی ہے 200 یونٹ پر پالیسی کچھ اور 201 یونٹ پر پالیسی کچھ اور وزیر خزانہ کے پاس بجلی چارج کرنے کا کوئی فکس پیمانہ ہی نہیں ہر بار حکمران الیکشن میں اور جیتنے کے بعد عوام کو ٹریپ کرتے ہیں خود بڑی بڑی مراعات لے لیتے ہیں وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس کی تزئین و آرائش کے لیے 85 کروڑ مختص کروا لیے ہیں عوام کے لیے ہمیشہ بجلی ،سفر ،گھر اور علاج مہنگا کر دیا جاتا ھے اشرافیہ نواز دو بجٹ نامنظور ، نامنظور نکلو اپنے حقوق کی خاطر
فرزانہ بلوچ چیئرپرسن تحریم ویلفیئر آرگنائزیشن جھنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں