راولا کوٹ کی ایک رات
ہم اپنے گاوں سے چلے تھےاور شام ہونے سے پہلے سیالکوٹ ائیرپورٹ، کلووال، چھنی بنگلہ چوک سے ہوتے ہوئے دریائے چناب شہبازپور پل کراس کرکے جلال پورجٹاں پہنچ گئے تھے۔ جب ہم کوٹلہ اَرباب سے آگے دریا کا پل پار کرکے بھمبر شہر تک پہنچے تو شام نے اندھیرے کی چادراَوڑ لی تھی۔ میرے دوست یاسین بھٹی اورعقیل گاڑی کی پچھلی سیٹ پرجبکہ میرے ساتھ فوجی بھائی وحید، مہارت سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔اُس نے فوج میں بطور ٹرک ڈرائیورسیاچن،گارگل،سکردو،اَستور،چترال میں نوکری کی تھی۔اَب ریٹائرمنٹ کے بعد قصبہ میانوالی بنگلہ میں ٹیکسی چلا رہا تھا۔آج وہ ساتھ نہ ہوتا تو ہم یہ سفر اپنی گاڑی پر نہیں کرسکتے تھے،گاڑی کے چار سو چاروں اَورگھُپ اندھیرا تھا۔ ہم نے بھمبروالا پل کراس کرکے گاڑی وریام ٹرک ہوٹل پر روک لی جہاں کڑک چائے پی کر تازہ دم ہوکرچل پڑے اُونچی نیچی پہاڑی سڑکوں میں گاڑی بھاگتی جارہی تھی۔ ایک چھوٹے سے گاوۤں پنجیڑی میں سڑک کنارے خوبصورت عالیشان دربار پیرحضرت تاج الدین بخاری رنگ برنگی لائٹوں سے جگ مگ کر رہا تھا۔ ہم نےعشاء کی نماز ادا کی۔ ہمیں بھوک لگی ہوئی تھی دربار کے باہر برگد کے درخت کے نیچے دیگیں پک رہی تھیں لیکن ہم کھانا کھائے بغیر ہی نکل گئے۔ ہم لمبا سفر کرکے ہیڈ ورکس جاٹلاں کراس کرکے میرپور شہر پہنچ گئے۔ اس شہر کو آزاد کشمیر کا چھوٹا لندن اور مانچسٹر بولتے ہیں۔ ہم نے ایک عدد گاڑی والا موبائل چارجر خریدا،گاڑی میں شہر کی سیر کر کے سفر جاری رکھا، یہ پہاڑی علاقہ ہے،سڑک کبھی چوٹی پر پہنچ جاتی اور اچانک خطرناک موڑ مڑتی ہوئی اترائیوں میں اُتر جاتی۔ ڈرائیور پہاڑی علاقوں کا ایکسپرٹ تھا، ہماری سانس رکے ہوئے تھی۔ اب بھوک نے ستانا شروع کر دیا تھا۔ جب ہم اسلام گڑھ پہنچے تھے لیکن ہوٹل نظر نہیں آ رہا تھا ایک ڈھابہ نما سرائے سے پھر چائے کا ایک ایک کپ پی کر سفر جاری رکھا۔ ہمارا سفر آزاد کشمیر پاکستان اور انڈین جموں کشمیر کی سرحدی لکیر کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ ہم چک سواری سے آگے نکلے تو پہاڑی موڑ مڑتے ہی چڑھائی پر سڑک کے دائیں ہاتھ ایک ٹرک ہوٹل پر گاڑی روک لی، وہاں ٹرک کھڑے تھے،جہاں بڑی بڑی چارپائیوں پر ڈرائیورز،ہیلپرز کھانا کھا رہے تھے۔ ہم کھانے کا بول کر ہاتھ منہ دھونے لگ پڑے، جب سرہانے لگے منجھے پر بیٹھے تو ویٹر کھانا لے آیا،بھوک لگی ہوئی تھی پھر کھانا تھا اور ہم تھے،کھانے کے بعد مزیدار چائے پیالیوں میں آگئی،تازہ دم ہو کر ہم نے سفر جاری رکھا،رات آدھی سے زیادہ گزرچکی تھی۔ ہم پہاڑوں کے درمیان تنگ سڑک سے گزر رہے تھے دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تھی۔ایک موٹر سائیکل پر دو پولیس والے گشت کرتے پاس سے گزرے جن کے پاس کوئی ہتھیارنہیں تھا،صرف بانس کی اسٹک تھیں۔ ہم حیران ہوئے کہ ویران پہاڑیوں کے جنگلی علاقہ میں بغیر اسلحہ کے پیٹرولنگ اور وہ بھی آدھی رات کا وقت تھا ۔ ہم نے سوچا یہ کشمیر ہے ہوسکتا ہے ہمارے پنجاب جتنا جرائم یہاں نہ ہو۔ ہم میرپور چکسواری کوٹلی روڑ پر جا رہے تھے۔ گاڑی ٹیڑے،میڑے،اونچائیوں،اترائیوں پر چلے جا رہی تھی۔ ہمارا ڈرائیور انتہائی خطرناک راستوں پر گاڑی چلانے میں ماہرتھا۔ ہم کوٹلی شہرپہنچ چکے تھے۔ ہمارے سامنے بورڈ پر شہروں کے نام لکھے ہوئے تھے،کوٹلی،گلبہار، ڈونگی، کھوئی رٹہ، تیر کے نشان سے شہروں کی سمت اور کلومیٹرز میں فاصلے،کوٹلی شہر پہاڑوں کے درمیان اترائیوں میں واقع ہے۔ چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔یہ ایک خوبصورت شہر ہے۔ جس سے گزرتے ہوئے دربار بابا شیر شاہ بابا حضرت جمال شاہ پرفاتحہ پڑھی،تصویریں بنائیں،ہمارا یہ سفر کوٹلی،تتہ پانی،ہیجیرہ روڈ پر تھا۔ یہ تتہ پانی چھوٹا سا شاندار قصبہ ہے۔ جو بارڈر کے قریب واقع ہے۔ جہاں دو دریا آپس میں ملتے ہیں۔ وہاں چھوٹا سا ہیڈ ورکس بھی ہے۔ قصبہ سے بٹل،ہجیرہ روڈ پر نکلیں تو تتہ پانی پولیس چوکی روڈ کے اوپر ہے۔ہم نے تھوڑی دیر رک کر آرام کیا،گاڑی کے ریڈی ایٹر کا پانی، ٹائروں کی ہوا چیک کی،چوکی سے آگے سڑک پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا۔ جس پر بٹل، شہرچودہ کلومیٹر، ہجیرہ تیس کلومیٹر، راولا کوٹ ساٹھ کلومیٹر اور مظفرآباد ایک سوچھیاسٹھ کلومیٹر لکھا ہوا تھا۔ میں سفر میں ہر شہرکی تاریخ، جغرافیہ،سیاست،تعلیم، رسم و رواج، کاروبار، رہن سہن، ثقافت لکھنے بیٹھ گیا،تو یہ مضمون لمبا ہی نہیں بلکہ بہت لمبا ہو جائے گا جبکہ میں اس تحریر کو مختصر رکھنا چاہتا ہوں۔ ہم نے سفر جاری رکھنا ہے اِس سڑک کی مانند جو زِگ زیگ کبھی آسمان کو چھوتی ہوئی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاتی،تو ایک دم اونچائی سے انتہائی گہری کھائی میں پہنچ جاتی ہے،اِس پُر پیچ راستوں پر سفر کرتے ہوئے سانس رکتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ لیکن کشمیر کے ان پہاڑوں کی اپنی ہی خوبصورتی ہے جو دل کو موہ لیتی ہے،میرا سلام انسانی عظمت کے نام، کہ انسان نے اتنے خطرناک جان لیوا پہاڑوں کی چوٹیوں،خوفناک کھائیوں،اُترائیوں میں عالیشان گھر،عمارات تعمیر کی ہیں،جنگل،بیابان آباد کئے ہیں۔ ہمارا راستے میں کہیں کہیں پانچ دس گھروں کےگاوۤں تھے،ہم بٹل قصبہ سے گزر رہے تھے، آزان کی آواز نے دل کو موہ لیا تھا، صبح سحری کا سماں تھا جب ہم دو دریاوۤں کے کنارے پہاڑ کی چوٹی پر خوبصورت شہر ہجیرہ کے مین بازار میں جامع مسجد اور سکول کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ ہم نے مسجد میں باجماعت نماز فجرادا کی اور ساتھ ہی چائے کے ہوٹل میں بیٹھ گئے۔ ہم نے چائے والے کوبتایا کہ ہم سیاح ہیں، سیالکوٹ سے ائے ہیں،راولا کوٹ جا رہے ہیں اس نے مزیدار نفیس چائے پیش کی، ہم نے چائے پی کر بل ادا کیا۔اُس سے راولا کوٹ کا راستہ سمجھا اورچل پڑے شہرسے نکلے تو دریا کے پل پرایک ٹرک کھڑا تھا پوچھنے پر معلوم ہوا رات سے کھڑا ہے خراب ہے، ہم مشکل سے گاڑی گزار کے آگے نکلے۔ ہم سب کی آنکھوں میں نیند گہری نیند سو رہی تھی۔ ہم جاگ رہے تھے۔ سفرنہایت خطرناک تھا کوئی بھی سونے کا رسک نہیں لے رہا تھا۔ ہمارا ڈرائیور ایک دم چاک وچوبند تھا۔ میں نے اس سے باتیں جاری رکھیں کہیں اُس کی آنکھ نہ لگ جائے۔ ہیجیرہ سے راولا کوٹ تک کا راستہ بہت ہی خطرناک تھا۔ گاڑی کبھی آسمان کو چھوتے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاتی، ساتھ ہی یکدم گہری کھائی میں اُتر جاتی،ہم راولا کوٹ شہر پہنچ چکے تھے۔ تب ہمارے استقبال کے لئے روشنی کا پیامبر سورج نکل رہا تھا۔ یہ شہر خوبصورت اور دلکش ہے۔ جس طرح بچپن کے خوابوں میں دیکھتے، سنتے تھے۔اس سے بڑھ کر حسیں،چاروں طرف سرسبز بلند و بالا پہاڑ اور پہاڑوں پر آسمان کو چھوتے چیڑ،دیار،بیار،پاپولر کے درخت ماحول کو طلسماتی رنگ دے رہے تھے۔ ہم نے مین بازار پہنچ کرٹورازم ہوٹل راولا کوٹ سے ناشتہ کیا جس کا ذائقہ تو خاص نہیں تھا لیکن بل بلا کا خاص تھا۔ اِس پرمحکمہ ٹوراِزم کو خاص دھیان دینا ہوگا۔ اب نیند ہم سے دور تھی اور ہم نید سے، توفیصلہ کیا کہ گھوم پھر کر شہر دیکھا جائے۔ ہم نے سی ایم ایچ کے سامنے سے گزرتے ہوئے ائیرپورٹ دیکھا،پھر اینیمل وٹرنری یونیورسٹی پونچھ راولا کوٹ کے سامنے چند تصویریں بنائیں۔ جس کے ساتھ ہی خوبصورت جھیل تھی۔ جب کیپٹن حسین خاں شہید گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے سامنے سے گزرتے ہوئے پہاڑی پر سکھوں کےسری ڈھیری گردوارہ کی عمارت کی آخری نشانی دیکھی جہاں سکھوں کے سرکردہ لیڈر بیٹھک لگایا کرتے تھے۔ تاہم یہ ویران ہونے کے باوجود ایک خوبصورت پکنک پوائنٹ تھا۔ جہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں تصویریں بنا رہے تھے۔ ہم نے بھی دو چار تصویریں بنوائیں۔ ہم نے راولا کوٹ کے مختلف مقامات دیکھے،دن شام میں ڈھل گیا ہم ٹورسٹ ہوٹل ڈریم لینڈ پہنچ گئے، رات کے لیئے چاربیڈ والا کمرہ لیا، یہ جولائی اگست کے دن تھے لیکن یہاں رات ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ ہم دو دن کا سفر کرکے پہنچے تھے، تھکن کی وجہ سے گہری نیند آئی،صبح سویرے ہوٹل والوں نے آملیٹ،پراٹھا،چائے کا ناشتہ دیا۔جس کے ساتھ دس ہزار کا بل تھما دیا، ہمیں راولا کوٹ میں ایک رات کی نیند دس ہزار میں پڑی۔ میں کشمیر کے سارے شہروں میں ٹرکوں والا ہوٹل یا پٹھان،خان ہوٹل یا کوئٹہ چائے ہوٹل،ڈھونڈتا رہا جو ہمیں کہیں نہ ملا راولا کوٹ میں پہاڑی،کشمیری،پوٹھوہاری،پنجابی،اُردوبولی جانے والی زبانیں ہیں، شہر میں ٹورازم اور ہوٹلنگ کا کاروبار ہے۔ یہ ایک خوبصورت شہر ہے۔ راولا کوٹ ایک ایسا شہر ہے جسے دیکھ کر الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، میرا دل یہی کا ہو کررہ جاتا ہے۔ مجھے لاء کالج کے زمانے کا ایک خوبصورت شخص یاد آگیا۔جو یہاں کا رہنے والا تھا۔ اب جانے کس حال میں تھا،کہاں تھا، تو نصرت فتح علی خاں کی غزل یاد آگئی،
اب کیا سوچےکیا ہونا ہے
جو ہوگا اچھا ہوگا
پہلے سوچا ہوتا پاگل اَب رونے سے کیا ہوگا
آج کسی نے دل توڑا تو ہم کو جیسے دھیان آیا
جس کا دل ہم نے توڑا تھا وہ جانے کیسا ہوگا
میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں یہاں بس جاوۤں، لیکن محترم مستنصرحسین تارڑ کے الفاظ یاد آگئے کہ سیاح ایک خانہ بدوش ہوتا ہے،خانہ بدوش مسافر ہوتا ہے، جس کا مستقل ٹھکانہ،کوئی گھرنہیں ہوتا، میں رات یہاں گزار چکا تھا۔ میں نے دوستوں سے کہا آج کا دن اِس شہر میں گزارنا ہے تو دیکھ لو رات کسی دوسرے شہر میں گزاریں گے۔ میں پرانے دوست کی تلاش میں لگا ہوا تھا اس کے پرانے خط،نقشے،ڈائری،موبائل نمبرز،دیکھتا رہا لیکن کہیں سے بھی اس کا نشان نہ ملا، تو حسن رضا کی غزل یاد آگئ،
کہنے لگی میں ڈھونڈتی تیرا پتہ مگر
وہ جن پر نشان لگے تھے وہ نقشے نہیں ملے
میں اس شخص کو تلاش نہیں کر سکا،دل افسردہ تو ہوا، لیکن کون عمر بھر ایک ہی جگہ کسی کے انتظار میں رہتا ہے۔
شاہد محمود سیالکوٹ
05/11/2025









