*اساتذہ کے بطل حریت حاجی مشتاق احمد ہرل کا عہد ساز کردار*
*راقم تحریر* *مہر محمد شریف**ضلعی نائب صدر /میڈیا ایڈوائزر پنجاب ٹیچرز یونین ڈسٹرکٹ جھنگ*
*یہ اظہر من الشمس مشیت ایزدی ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ھے بچھڑنا ایک قطعی امر ہے*
*لیکن کچھ لوگ اپنے پرخلوص جذبوں، بے لوث خدمات اور مثالی کردار کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جن پر گردش زمانہ کے لیل ونہار بھی ماضی کی گرد نسیاں نہیں ڈال سکتے قائد اساتذہ حاجی مشتاق احمد ہرل کو ہم سے بچھڑے دو برس بیت چکے ہیں مگر حقوق اساتذہ کے لیے ان کی جدوجہد اور بے لوث خدمات آج بھی ایجوکیشن سیکٹر کی روشن پیشانی پر تازہ تراشے ہوئے جھومر کی مانند چمک دمک رہی ہیں*
*دکھ یہ ہے میرے یوسف یعقوب کے خالق*
*وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے*
*مرحوم قائد کی شخصیت و کردار اپنے اندر بحر بے پایاں لیے ہوئے ہیں فہم و فراست کا بانکپن ،معاملہ فہمی کا لطف، بصیرت و حکمت کا مرقع ،قائدانہ صلاحیتوں کا سرچشمہ، علمی جواہر کا ممبع، شرافت کا پیکر، جہاں دیدگی کا مظہر، تفکر و تخیل کی کہکشاں کی مجسم شکل حاجی مشتاق جیسی شخصیت نصف صدی تک اپنی ضیا پاشیوں سے اساتذہ کے حقوق و فرائض کا علم بلند کرتی رہی وہ شخصیت جس نے ضلعی، صوبائی اور ملکی سطح پر اساتذہ کے حقوق کے لیے جدوجہد میں سرخیل کردار ادا کیا آپ 23 مارچ 1966 کو چنڈ بھروانہ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرحوم قائد کا پورا خاندان والدین، بھائی، بہنیں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ و منسلک ہیں.آپ نے بطور معلم اپنی سروس کا آغاز گورنمنٹ ہائی سکول شیر چاکر سے کیا اور بعد ازاں مڈل سکول کوٹ خان، مڈل سکول حسن خان اور مڈل سکول غازی آباد میں سروس کی دشت نو وردی کرتے ہوئے گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول غزالی ماڈل میں اپنی سروس کا اختتام کیا مرحوم قائد کی پوری سروس خدمت اساتذہ مشن سے عبارت ہے آپ سروس کے اغاز سے ہی پنجاب ٹیچرز یونین سے منسلک ہو گئے اور اپنے اندر قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے جلد ہی اپ کا شمار صوبائی سطح کے قائدین میں ہونے لگا اور آپ پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب کے سینیئر نائب صدر نامزد ہوئے 2018 میں گورنمنٹ غزالی ماڈل مڈل سکول میں قائد اساتذہ حاجی مشتاق احمد ہرل نے اساتذہ یونین کا ایک حسین گلدستہ ازسر نو ترتیب دیا جس میں مختلف انواع و اقسام کی پھولوں کو شامل کیا گیا اس گلدستے کا ہر ایک پھول اپنی الگ خوشبو اور مختلف قسم کی لطافتوں اور نزاکتوں سے مزین اور مالا مال ہے آپ نے پنجاب ٹیچرز یونین کو ازسر نو منظم کیا جس میں حاجی شمشاد حسین کی سرپرستی میں بزرگوں کی دعا مہر فیاض حسین اور قاضی حسنین جیسے زیرک لوگوں کی رہنمائی، سید شہرو اعلی کی شکل میں سادات کا سایہ، میاں عابد سلیم بھٹہ ،ملک عمر حیات حسام، ملک ناصر علی جیسے انتھک اور جفا کش لوگ شامل کیے مہر وسیم عباس، ملک مدثر عباس، رانا قیصر عباس نون سہیل ریاض بھٹی جیسے جواں جذبے اور عبدالرازق قادری ریاض حسین شاکر ، دلشیر علی خان جیسے فہیم لوگ شامل کیے آپ کے گلدستے کا ہر پھول اپنے اندر ایک انجمن ہے اور اس گلدستے کی آبیاری ان کی تربیت اس انداز میں کی گئی کہ ان کے جانے کے بعد ان کے تراشے ہوئے پتھر جیتی جاگتی مجسم شکل میں تنظیمی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں* *19 نومبر 2022 مرحوم قائد کا ارتحال ہم سب کے لیے سانحہ سے کم نہ تھا کچھ کج فہم اور نا عاقبت اندیش لوگ جن کے ساتھ ہماری نظریاتی ہم آہنگی نہیں ہے وہ سمجھ رہے تھے کہ مرحوم قائد کےدار فانی سے کوچ کرنے کے بعد یہ گلدستہ مرجھا جائے گا اس کا شیرازہ بکھر جائے گا مگر اس گلدستے کی آبیاری کے لیے قائد محترم کے درینہ ساتھی منکسر المزاج ،ذوالعقول اور زیرک شخص مہر فیاض حسین سیال نے صدارت سنبھالی اور ان کے شانہ بشانہ میاں عابد سلیم بھٹہ کی جنرل سیکرٹری شپ میں یہ قافلہ رواں دواں ہے*
*آج میری لوح چشم نشاط سے سرشار اور میرا دل تشکر و امتنان کے جذبات سے معمور ہے کہ 2018 میں میں لگایا ہوا پودا اب تناور درخت بن چکا ہے جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر ہم اساتذہ کے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ درخت زمین کے اندر اپنی جڑیں اتنی* *مضبوط کر چکا ہے کہ تحصیل احمد پور سیال میں چوہدری عبدالرزاق اور سید توقیر افضل نقوی کی سرپرستی میں ایک مضبوط تنظیم موجود ہے اسی طرح تحصیل شورکوٹ میں چوہدری امجد علی گجر اور سلیم شہزاد کی سربراہی میں ایک منظم تنظیم کام کر رہی ہے اسی طرح تحصیل جھنگ میں مہر وسیم عباس سیال اور رانا محمد اعظم کی سربراہی میں فعال تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے اسی طرح* *تحصیل 18 ہزاری میں مہر سلیم عباس بڈھانہ کی* *سربراہی میں پنجاب ٹیچرز یونین جھنگ خدمت اساتذہ مشن کے تحت کام کر رہی ہے یہ میری اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اس نے قائد محترم سے اساتذہ حقوق کے لیے اساتذہ کی خدمات کے لیے کام لینا تھا* *گو کہ ابھی یہ وقت نہیں تھا ان کے جانے کا مگر یہ اللہ کی حکمت ہے کہ وہ آج کے دن دار فانی سے کوچ کر گئے*
*چمن سے ان کو گزرے دو برس بیت گئے لیکن مگر ابھی تک وہ چشم نرگس کی حیرانی نہیں جاتی*
*میرے اللہ حاجی مشتاق احمد کو وہ چشم بینا دے جس کی بصیرت اور بصارت سے وہ دیکھیں کہ آج ان کے جانشین خدمت اساتذہ میں کس قدر کار فرما ہیں مولانا عبدالمجید سالک نے میرے جذبات کو اشعار کے پیکر میں کچھ یوں ڈھالا ھے*
*چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے*
*چمن میں آئے گی فصل بہارا ہم نہیں ہوں گے*
*جوانو! اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے*
*تم ہی ہو گے فروغ بزم امکان ہم نہیں ہوں گے*
*نہ تھا اپنی قسمت میں طلوع مہر کا جلوہ*
*سحر ہو جائے گی شام غریباں ہم نہیں ہوں گے*
*اگر ماضی منور تھا کبھی تو ہم نہ تھے حاضر*
*جو مستقبل کبھی ہوگا درخشاں ہم نہیں ہوں گے*









