140

*جھنگ(جاوید اعوان سے)میونسپل کمیٹی کے بلڈنگ انسپکٹر شہریار کے انوکھے اقدامات زیرِ تنقید، سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)میونسپل کمیٹی کے بلڈنگ انسپکٹر شہریار کے انوکھے اقدامات زیرِ تنقید، سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف*
*جھنگ میونسپل کمیٹی جھنگ کے بلڈنگ انسپکٹر شہریار کے مبینہ غیر قانونی اقدامات اور پیشہ ورانہ غفلت کے انکشافات نے شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی تعیناتی کے بعد شہر بھر میں درجنوں کمرشل پلازے، مارکیٹس اور مختلف عمارتیں بغیر نقشہ منظوری کے تعمیر ہونا شروع ہو گئیں*۔
*شہریوں کا کہنا ہے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق موجودہ کیٹیگری ریٹس، گورنمنٹ شیڈول ریٹس اور پراپرٹی قوانین کے تحت چالان جاری کر کے ریکوری کرنے کے بجائے انسپکٹر نے مبینہ طور پر بلڈنگ مالکان کے ساتھ باہمی صلاح و مشورے سے مقامی تھانوں میں استغاثے جمع کروانے کا راستہ اختیار کیا، جسے ماہرین “اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش” قرار دے رہے ہیں*۔
*عوامی و سماجی حلقوں نے اس طرزِ عمل پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ انسپکٹر شہریار کی غفلت، ملی بھگت اور عدم اہلیت نہ صرف واضح ہو رہی ہے بلکہ شہری ترقی کے عمل کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے*۔
*باخبر ذرائع کے مطابق معاملہ اس وقت ایڈوائزر صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب جھنگ کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازعہ بلڈنگز کا باضابطہ معائنہ کیا جائے، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا ریکارڈ بشمول پی ٹی ون حاصل کیا جائے اور نقشہ منظوری کے مطابق چالان جاری کر کے قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے*۔
*شہری حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ اس کیس کا شفاف اور قانونی انجام شہری منصوبہ بندی کے معیار، قانون کی عملداری اور بلڈنگ ریگولیشنز کے تحفظ کیلئے انتہائی ضروری ہے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں