93

*عنوان: غریب کی سڑکوں پر تذلیل کب ختم ہوگی؟ حکومتِ پنجاب کے لیے ایک دل گرفتہ مگر سچی درخواست* *تحریر: حجاب طفیل مرکزی نائب صدر و آرگنائزر خواتین ونگ پاک میڈیا کونسل پاکستان*

*عنوان: غریب کی سڑکوں پر تذلیل کب ختم ہوگی؟ حکومتِ پنجاب کے لیے ایک دل گرفتہ مگر سچی درخواست*
*تحریر: حجاب طفیل مرکزی نائب صدر و آرگنائزر خواتین ونگ پاک میڈیا کونسل پاکستان*
پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ!
آپ نے محض چند ماہ میں وہ کام کر دکھایا ھے جن پر ماضی کی کئی حکومتیں برسوں فخر کرتی رہتیں۔ بکھری ھوئی سڑکیں بن گئیں، گندم کی قیمتوں کو مصنوعی بحرانوں کے باوجود قابو میں رکھا، ڈکیتوں کا قلع قمع کیا، صفائی کی وہ مثال قائم کی جو شاید گزشتہ پچھتر برسوں میں نہ دیکھی گئی۔ عوامی ٹرانسپورٹ میں مفت الیکٹرک بسیں ایک ایسا قدم ہے جس نے پاکستان کے عام شہری کو پہلی بار نفسِ مطمئن کی سی کیفیت دی۔
لیکن…
یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ایک بڑا مگر تلخ سچ اپنی جگہ موجود ہے کہ غریب کی رائے اب بھی نہیں بدلی۔
کیوں…؟
کیونکہ سڑکیں تو بن گئیں، مگر انہی سڑکوں پر غریب کا سفر اجیرن بنا دیا گیا۔ ٹریفک کے نام پر ایک ایسا شکنجہ کَس دیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ پس رہا ہے وہی شخص جس کی سواری موٹر سائیکل ہے – جو اس کی روزی، اس کے بچوں کی سکول وین، اس کی والدہ کا اسپتال کا راستہ، اور اس کی عزتِ نفس کا آخری سہارا ہے۔
یہ وہی موٹر سائیکل ہے جسے ستر سے اسی فیصد لوگ قسطوں پر خریدتے ہیں، اور اسی پر زندگی کے سب بوجھ ڈھوتے ہیں۔ مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ ناکوں پر ایسے گھیرے جا رہے ہیں جیسے غریب نہیں، کوئی مجرم پکڑا جا رہا ہو۔
حکومت اگر اپنے اقدامات سے واقعی عوام کا دل جیتنا چاہتی ہے تو ایک انقلابی قدم – ایک دلوں کو چھو لینے والا فیصلہ – اس لمحے کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے:
*موٹر سائیکل لائسنس مکمل طور پر مفت کیا جائے،
اور عمر کی حد 18 سال سے کم کر کے 15 سال کی جائے۔*
یہ نظامِ تعلیم یا طب کے پیچیدہ فیصلوں جیسا نہیں، یہ ایک فوری، سیدھا، اور دلوں میں گھر کرنے والا اقدام ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ…
لائسنس بنوانے والوں کے درمیان قرعہ اندازی ہو
انعامات میں موٹر سائیکلیں اور ہیلمٹ دیے جائیں
ہر ناکے، چوک اور چوراہے پر موقع پر ہی مفت لائسنس جاری کیا جائے
یہ کوئی خیرات نہیں، یہ وہ حقیقی ریلیف ہے جو عوامی نفسیات بدل سکتا ہے، اور حکومتِ وقت کے لیے ایک غیر معمولی مقبولیت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ رجیم چینج کے بعد حکومت کا کوئی بیانیہ عوامی دلوں میں جگہ نہیں بنا سکا۔
نہ مہنگائی کم ہوئی، نہ بے روزگاری گھٹی، نہ پٹرول سستا ہوا۔
ایسے میں مفت لائسنس کا فیصلہ ایک ٹرننگ پوائنٹ بن سکتا ہے۔
آج حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ غریب جرمانوں سے نہیں، عزت نفس کی تذلیل سے ٹوٹ رہا ہے۔
قانون کی عملداری اپنی جگہ، مگر اسے اس طرح نافذ کیا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں حکومت کی محبت کے بجائے خوف اور نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ ٹریفک مہم کا وہ بھونڈا انداز، جسے روز سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے، حکومت کے امیج کو بہت نقصان پہنچا رہا ہے۔
محترمہ وزیراعلیٰ!
آپ نے جب حکومت سنبھالی تھی تو وعدہ تھا کہ عوام کو ریلیف ملے گا۔ لوگ آج بھی اسی امید پر کھڑے ہیں۔ مگر اب حالات اس حد تک مایوس کن ہو چکے ہیں کہ ایک بڑا، دل پسند اقدام ہی حکومت کو دوبارہ عوام کے دلوں میں جگہ دلا سکتا ہے۔
یہ قدم غریب کے لیے آسانی بھی ہے، عزت بھی، سہولت بھی –
اور آپ کی حکومت کے لیے شاندار مقبولیت کا دروازہ بھی۔
*جو لائسنس مفت بنوانے کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرے،
وہ جرمانے اور پرچوں کا حقدار بھی ہے ـ اور سزا بھی۔
مگر کم از کم اس کو موقع تو ملے!*
آخر میں ایک حقیقت پسندانہ مگر کڑوا پیغام:
قوم ہر دکھ سہہ لیتی ہے،
مہنگائی، پٹرول، بے روزگاری سب برداشت کر لیتی ہے،
مگر سڑکوں پر بے عزتی… یہ زخم دلوں میں بہت گہرا اتر جاتا ہے۔
وقت ہے کہ آپ وہ فیصلہ کریں جو واقعی غریب کی زندگی بدل دے۔
اور حکومت کا وہ مقام بحال کرے جو اس وقت کہیں دھندلا چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں