*“رفتار کے بہروپیے… اور* *شعور کی لاوارث قبر”*
*(تصنیف: حجاب طفیل)*
شہر کی سڑکوں پر ایک تماشا روز لگتا ھے۔ کوئی سوچے تو لگے گا جیسے ہم سب نے عقل کو پارکنگ میں کھڑا کر کے رفتار کو خود سٹیرنگ تھما دیا ھو۔ حیرت ھے، قوم دو چیزوں سے شدید الرجک ھے:
ایک ہیلمٹ
دوسرا نصیحت۔
صبح کی ایک تصویر دیکھ لیجیے—دو کم عمر جہاز ران، بس فرق اتنا کہ runway کی جگہ فٹ پاتھ استعمال ھو رہا ھوتا ھے۔ آگے بیٹھا پائلٹ ایسی tilt مارتا ہے جیسے physics کے اصولوں نے اس کے گھر کی گھنٹی بجا کر معافی مانگی ہو، اور پیچھے بیٹھا co-pilot موبائل پر TikTok کا live show کر رہا ہوتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے رفتار سے عشق بھی ہو چکا ہے اور عقل سے بدگمانی بھی۔
کبھی کبھی دل کہتا ہے شاید اسی لیے شاعر نے کہا تھا:
“یہ کم عمری کا نشہ، یہ وہمِ پروازِ جنوں…
جہاں سڑک رکتی ہے، وہاں خواب بھاگتے ہیں!”
مزہ دیکھو، قوم کے پاس helmet پہننے کے لیے سو بہانے ہیں، لیکن غلطی کے بعد شرمندہ ہونے کے لیے ایک بھی نہیں۔ ہم یوں behave کرتے ہیں جیسے قانون صرف دوسروں کے لیے بنا ہو، اور ہماری باری آئے تو یہ سب بدتمیزی ہو جاتی ہے۔
اصل مسئلہ یہاں ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اکثر یوں پکڑتے ہیں جیسے بندہ helmet نہیں، کوئی international scandal لے کر نکلا ہو۔
زورِ بازو زیادہ، زورِ اخلاق کم۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں سختی، نصیحت کو شرمندہ کر دیتی ہے۔
ہاں، یہ بھی سچ ہے کہ ہماری قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں اگر 10 سال کی عمر میں bike نہ ملے تو لگتا ہے ان کا بچپن ادھورا رہ گیا۔ پھر 15–16 میں ہاتھ پہ ہاتھ نہیں، کلچ پہ کلچ رکھتے ہیں۔
ایسے ہی کسی لمحے میں ایک جملہ ذہن میں آیا:
“یہ قوم brake کم، bravado زیادہ استعمال کرتی ہے۔
اور انجام میں اکثر دونوں کی کمی رہ جاتی ہے!”
لیکن الزام صرف عوام کا نہیں…
نظام بھی ایسا ہے جیسے عقل نے resign دے دیا ہو۔
ڈنڈا پہلے، گفتگو بعد میں۔
ہمدردی کم، ہٹ دھرمی زیادہ۔









