*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔ نئے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال آتے ہی متنازعہ! عوام کے لیے ‘راستہ بند’ – سیکیورٹی یا کاروباری رنجش؟*
*ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (DHQ) جھنگ میں نئے آنے والے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) کا چارج سنبھالتے ہی پہلا فیصلہ سنگین تنازعے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ ایم ایس نے آتے ہی ہسپتال کا مین گیٹ ہی مکمل طور پر بند کروا کر تالا جڑ دیا، جس سے ہسپتال آنے والی عوام، ڈاکٹرز، اور سٹاف کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ اقدام کسی سیکیورٹی تھریٹ کے پیش نظر کیا گیا ہے یا اس کے پیچھے کوئی کاروباری رقابت چھپی ہے؟ جس مین گیٹ کو بند کیا گیا ہے، اسی کے دائیں جانب کار پارکنگ ہے، اور یہی راستہ ڈی ایچ ڈی سی آفس، سی ای او آفس، مسجد اور رہائشی کالونی کو بھی جاتا ہے*۔
*اب مریضوں کے لواحقین اور ڈاکٹر صاحبان کو اپنی گاڑیاں پارک کرنے کے لیے مجبوری میں ایمرجنسی گیٹ سے گزر کر جانا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ایمرجنسی گیٹ اور ٹراما سنٹر پر ٹریفک کا بھیانک رش اور جام لگ جاتا ہے*، *جو ایمرجنسی صورتحال میں رکاوٹ بن سکتا ہے*۔
*کاروباری رنجش کا شبہ ایڈمن آفیسر پر انگلیاں!*
*مین گیٹ کے سامنے کاروبار کرنے والے مقامی افراد نے اس فیصلے کے پیچھے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا واضح موقف ہے کہ یہ مین گیٹ ایڈمن آفیسر نے کاروباری رقابت اور ذاتی عناد کی بنا پر بند کروایا ہے۔ کاروباریوں کے مطابق، جب ان سے اس فیصلے کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو ایڈمن آفیسر کبھی ڈپٹی کمشنر (DC) اور کبھی ایم ایس کا نام لے کر ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں*۔
*موقف دینے سے انکار: انتظامیہ خاموش*
*جب ایک نڈر میڈیا ٹیم نے اس حساس معاملے پر انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے دفتر کا دورہ کیا، تو انہوں نے ملنے سے صاف انکار کر دیا! مزید برآں، جب ایڈمن آفیسر کے ذاتی موبائل نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا نمبر بھی بند پایا گیا، جس سے شکوک و شبہات نے مزید سر اٹھا لیا ہے*۔
*عوامی اور سماجی حلقوں نے فوری طور پر ڈپٹی کمشنر جھنگ، علی اکبر بھنڈر، اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سخت نوٹس لیں، مین گیٹ کو فوری طور پر کھلوائیں، اور اس غیر ضروری تنازعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائیں۔ کیا انتظامیہ عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے فوری اصلاح احوال کرے گی، یا نئے ایم ایس کا یہ متنازعہ سکہ یوں ہی چلتا رہے گا؟*
123










