72

چَک 33 اور نظامِ بدیسی— کیا یہ کھُلا تضاد نہیں؟ تصنیف: حجاب طفیل مرکزی آرگنائزرز و نائب صدر پاک میڈیا کونسل پاکستان—

چَک 33 اور نظامِ بدیسی— کیا یہ کھُلا تضاد نہیں؟
تصنیف: حجاب طفیل مرکزی آرگنائزرز و نائب صدر پاک میڈیا کونسل پاکستان—

یہ ملک… چک 33 سے لے کر اسلام آباد تک…
ایک ایسے معاشرتی چرخے پر گھوم رہا ہے
جس کی ڈوپٹے کی لَٹ بھی پھٹی ہے
اور اسپینر بھی ٹیڑھا چل رہا ہے۔

ہم ایک ایسی مٹی کے لوگ ہیں
جس میں “غریب” اگتا ہے،
لیکن انصاف نہیں اگتا۔
ہماری قسمت ایسے ہے جیسے
پلاسٹک کی ٹوٹی ہوئی تھالی میں دال ڈال کر کہنا کہ
“بیٹا، چھلکنے نہ پائے!”

ہر روز ایک نئی سزا، نئی مصیبت، نئی کہانی…
اور پرانی پریشانیاں۔

ایک طرف چک 33 کی وہ مٹی ہے
جہاں کسان پگڑی باندھ کر
اپنی خشک ہوتی فصلوں کی فکروں میں
رات گزار دیتا ہے،
اور دوسری طرف “نظامِ بدیسی” ہے
جو اسے کہتا ہے:
“ہیلمٹ نہیں پہنا؟ آؤ بھائی… دو سزائیں تمہاری منتظر ہیں۔”

سوال یہ نہیں کہ ہیلمٹ ضروری ہے یا نہیں…
سوال یہ ہے کہ
کیوں ہماری ریاست کا ہاتھ ہمیشہ
غریب کی گردن پر ہی پھسلتا ہے؟

ہماری زندگی ویسی ہی ہے
جیسے بارش میں ٹپکتی چھت…
قطرہ قطرہ گرتا ہو تو تکلیف…
اور بہاؤ میں آجائے تو تباہی۔

بڑی بڑی تقریریں ہوئیں…
فائلیں آئیں، احکامات آئے…
پنجاب کی سڑکوں پر
“آسانیوں” کے نام پر
“نئی پریشانیاں” اتریں۔

غریب آدمی کا جرم کیا ہے؟
کہ اس کے پاس ہیلمٹ خریدنے کا پیسہ نہیں؟
یا پھر اس کا قصور یہ ہے
کہ وہ دن میں آٹھ گھنٹے مزدوری اور رات میں آٹھ گھنٹے فکروں کی قید بھگتتا ہے؟

اور پھر اسے کہا جاتا ہے:
“جرمانہ بھی دو، حوالات بھی بھگو… اور گھر جا کر اپنے بچوں کے لئے دوائی، فیس اور روٹی کا بھی بندوبست کرو۔”

واہ ری ریاست!
تَن پر کپڑا بھی تم ناپو،
دماغ پر قانون بھی تم ٹھونسو،
اور پھر کہتے ہو:
“ہم آسانیاں دے رہے ہیں!”

یہ کون سی آسانیاں ہیں؟
جو آسانی سے جان نکال دیتی ہیں؟

ایک غیر ملکی مصنف نے کہا تھا:
“Society collapses not when people break the law…
but when law breaks the people.”
ہماری حالت بھی ایسی ہی ہے۔
قانون ٹوٹے یا نہ ٹوٹے…
عوام ضرور ٹوٹ جاتی ہے۔

اور پھر وہی پرانی کہانی:
گھر کا واحد کفیل حوالات میں،
چولہا ٹھنڈا،
دوائیاں بند،
فیسیں لیٹ،
اور امیدیں خشک۔

یہ سب دیکھ کر دل پوچھتا ہے:
کیا یہ نظام واقعی “پنجاب” کا ہے
یا کسی ایسے بدیسی تھیورے کا
جس نے کبھی چک 33 کی دھول بھی نہیں سونگھی؟

ہماری سڑکیں بھی شاید ہم سے زیادہ مجبور ہیں—
کھڈے، گڑھے، مٹی، گرد…
اور اوپر سے “ہیلمٹ نہ پہنو تو حوالات” کا قانون۔
یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے
ٹوٹی سائیکل پر بیٹھے بچے کو کہنا کہ
“بیٹا… رفتار 200 کی کر کے دکھاؤ”۔

اور پھر شاعری بھی اپنا کردار نبھاتی ہے:

؎ یہ وہ دیس ہے جہاں قانون بھی روز پکّی روٹی مانگتا ہے،
؎ اور غریب کے پاس دو وقت کی سانس بھی ادھار کی ہوتی ہے۔

ہماری تقدیر کا ٹھیکہ آخر کب تک
“بدیسی دماغ + مقامی بدنصیبی” کے ملے جلے فارمولے سے بنتا رہے گا؟

اُف…!
یہ عوام اب تھک چکی ہے۔
اب وہ مشین نہیں، انسان ہے—
اور انسان جب تھکتا ہے
تو چیختا نہیں…
خاموش ہو جاتا ہے۔
اور خاموشی ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔

لہٰذا میری آواز…
میری درخواست…
میری ان دبی دبائی انگلیوں کی لرزش
یہی کہتی ہے:

“عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لائیے…
آسانیوں کو حوالات مت بھیجیے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں