*سنگرور سے ستارہ امتیاز تک*
خوابوں کی دنیا حسیں ہوتی ہے لیکن اِس دنیا میں جانے والے راستے کٹھن، مشکلات اور تکلیفوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اِن راہوں پر چلنے والوں میں ہمت، حوصلہ،استقامت،صبر،تحمل اورمقصد کے حصول سے جنون کی حد تک لگاؤ ہو گا تو سفر جاری رہ پائے گا ورنہ منزل سے پہلے ہی منزل کھو دینے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اِس راستہ کا ایسا ہی راہی،جناب ایم آر شاہد ہیں۔ جن کا مکمل نام محمد ریاض شاہد ہے۔ جن کوعلم وادب میں ان کی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا ہے۔ وہ اُردو،پنجابی زبان و ادب میں شاندارعلمی،ادبی، تحقیقی کام کی بنا پرایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ ان سیلف میڈ لوگوں میں سے ہیں،جنہوں نے مفقود وسائل،مشکل حالات کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔جو ملک کے سب سے بڑے سول ایوارڈ تمغہ امتیاز تک پہنچ گئے۔ اُن کے ساتھ میرا پندرہ سال سے محبت اور عقیدت کا رشتہ ہے۔ ان کی کتابوں کے ذریعے اُن کا غائبانہ تعارف تو برسوں پرانا ہے۔ وہ 1961ء میں انڈیا سنگرور کے شہر مالیر کوٹلہ میں پیدا ہوئے اور تیسری کلاس تک کی تعلیم اِس شہر کے پرائمری سکول سے حاصل کی ۔ وہ 1969ء میں اپنی والدہ کے ہمراہ ہجرت کرکے لاہور کے وسط میں پرانا مزنگ آباد ہوگئے۔ آبائی وطن سے ہجرت کا کرب بڑا جان لیوا ہوتا ہے۔ میرے دادا جان انڈیا کے شہر بٹالہ سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ میں ان کے چہرے، آنکھوں،باتوں،اُٹھنے،بیٹھنے سے ہجرت کی تکلیف کا کرب اور وطن کی ہڑک دیکھتا،سنتا تو میں بھی ان کی اِس تکلیف سے دکھی ہوتا تھا ۔ یہاں آکر جناب ایم آر شاہد وارث روڑ،پرائمری سکول میں داخل ہوگئے۔ یہاں سے پرائمری سکول کے بعد 1978ء میں میٹرک کیا اِس کے بعد 1981ء میں محکمہ پولیس میں منسٹیریل سٹاف میں بھرتی ہوگئے۔ وہ محنتی آدمی تھے سو ترقی کرتے آفس سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ تک پہنچ گئے۔ وہ پندرہ سال پہلے آئی جی آفس لاہور میں پبلک ریلیشنز برانچ میں تعینات تھے۔ میں بھی فکر معاش کے سلسلہ میں ان دنوں وہیں پر تھا۔ میں نے شام کی کلاسزز میں پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں کمپیوٹر ڈپلومہ کورس میں داخلہ لیا ہوا تھا۔ ایک دن آفس ورک کے سلسلہ میں ان کے دفتر گیا۔وہ دبلے پتلے، سمارٹ، چہرے پر نظر کا چشمہ سجائے کرسی پر بیٹھے آفس فائل دیکھ رہے تھے۔ میں نے سلام کیا،تعارف کروایا،کام کا بتایا ۔انہوں نے شفقت سے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا بولا اور ساتھ ہی آفس بوائے کو چائے لانے کا بول دیا۔ میں ان کا آفس روم دیکھ کر حیراں رہ گیا۔وہ آفس روم کم کسی شاعر،ادیب،دانش ور کا سٹڈی روم زیادہ دکھائی دے رہا تھا۔جو پھولوں، کتابوں، رنگ برنگی خوبصورت تصویروں، اخباری تراشوں سے سجایا ہوا تھا۔اُن کے آفس میں داخل ہوتے ہی خوشگوار تاثر ملتا، اُن کا آفس دیکھ کر طبیعت خوش ہو جاتی۔ میرے لئے لڑکا چائے لے آیا۔ میں نے علم،ادب،تحقیق،جستجو،سفر کی باتیں شروع کر لیں۔ جس کے بعد انہوں نےعلم،ادب،شاعری،تاریخ،جغرافیہ،سیاحت،سیاست، تاریخ عالم کے علماء، ادب، ادبی سرگرمیوں،کتابوں ادبی شخصیات کی دنیا کی باتیں شروع کیں تو وقت کا پتا ہی نہ چلا کہ کب شام ہوگی ہے۔اس دوران دو بار پرانا انارکلی کراچی پٹھان چائے خانہ سے چائے منگوائی گئی،یہ میری پہلی ملاقات تھی جس کے بعد ان کے ساتھ علم وادب کا جو رشتہ قائم ہوا وہ آج تک پوری طرح قائم و دائم ہے۔ وہ محکمہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے گے ورنہ محکمانہ ترقی میں مزید ترقی کرتے۔ میرا فون،واٹس ایپ،فیس بک،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گاہے بگاہے رابطہ رہتا اور ہیلو ہائے ہو جاتی۔میں اپنا مضمون جو مختلف اخبارات میں چھپتا توانہیں ضرور سینڈ کرتا ہوں وہ محبت بھرا تبصرہ بھیج دیتے ہیں۔ وہ حوصلہ اور ہمت دیتے ہیں ۔ایک روز میں اپنے بیٹے ارسلان شاہد جو آٹھویں کلاس کا طالب علم کے ساتھ، فیروز پور روڈ شمع سٹاپ کے قریب ان کے دولت خانہ پر حاضر ہوا تو میرے بیٹے سے بڑی محبت اور شفقت سے ملے، سٹڈی روم میں بٹھایا جس کو دیکھ کر طبیعت خوش ہوگی،کمرے کی چاروں دیواروں کو چھت تک خوبصورت تصویروں کتابوں اور اعزازات سے انتہائی خوبصورتی سے سجایا ہوا تھا۔ جن سے انتہائی خوشگوار نفاست جھلکتی تھی۔ میرے بیٹے کے ساتھ یادگاری تصویریں بنائیں اور اپنے آٹو گراف سے اپنی کتابیں گفٹ میں دیں۔ جس کے ساتھ ساتھ ابو الکلام آزاد کی پسند جیسی خوش ذائقہ چائے پلائی۔ میرے بیٹے سے اُن کی پرخلوص شفقت اور محبت دیکھ کر مجھے جناب قاسم علی شاہ صاحب کی باتیں یاد آ گئیں کہ بڑا آدمی وہ ہے جس کے پاس بیٹھ کرآپ خود کو چھوٹا محسوس نہ کریں۔ خدا کسی کو نوازتا ہے تو اس میں،حوصلہ،ہمت،صبر،تحمل،انسانیت،عاجزی،انکساری،شکرگزاری،خدمت کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ میری اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں ہمیشہ خلوص محبت اور شفقت سے پیش آتے،اُن کی پُرمغز علمی ادبی باتوں سے میں اپنی علمی پیاس بجھاتا تھا۔ وہ اکثر علمی،ادبی،علماء کے احوال کا ذکر کرتے،احمد ندیم قاسمی سے انہیں ایک خاص محبت تھی اکثر ان کو یاد کرتے ہیں،ان کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد،بانو قدسیہ،امجد اسلام امجد،مستنصرحسین تارڑ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔وہ لاہور کی علمی ادبی محفلوں مشاعروں اور دیگر سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لاہور کی علمی ادبی سرگرمیوں کی خود سے تاریخ ہیں۔ وہ خود ان محفلوں میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ اب تک اُن کی دس سے زائد کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ میں نے یہ ساری کتابیں پڑھی ہیں۔ کتابیں کیا ہیں علم وادب کا خزانہ اور تاریخ،سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ جو کام حکومتوں،اداروں کے کرنے والے تھے۔وہ دبلے پتلے،منحنی سے جسم و جسامت لیکن دُھن کے پکے اور گن کے سچے جناب ایم آر شاہد نے کر دکھایا ہے۔ انہوں نے مفقود وسائل،معمولی تنخواہ،مشکل حالات کے باوجود بڑا کارنامہ کر دکھایا ہے۔اُن کے کام پر اُن کو ادبی انعامات سے نوازا گیا ہے۔ وہ ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز تمغہ امتیاز تک پہنچے ہیں جو خالص اُن کی محنت،لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اُن کو مارچ 2012ء میں اُن کی علمی،ادبی،فکری،تحقیقی خدمات کے صلہ میں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ ان کی کتاب ،،لاہور میں مشاہیر کے مدفون،، ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کی قبروں، مزاروں، مقبروں لاہور کے قبرستانوں کی تاریخ نہایت دلکش پیرائے میں پرو دی ہے۔ان کی دوسری کتاب،،شہدائے وطن،،افواج پاکستان کے ان شہداء کے احوال ہیں جنہوں نے وطن عزیز کی حفاظت کی خاطرجانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔اُن کی تیسری کتاب،،شہدائے پنجاب پولیس،،قیام پاکستان سے آج تک پنجاب پولیس کے افسران،جوانوں کو یاد کیا گیا ہے جنہوں نے وطن عزیز کے شہریوں کی جان و مال اور قانون کی عمل داری کی خاطر راہِ حق میں جانیں نثار کی ہیں۔اُن کی قربانیوں کو ہمیشہ کے لئے زندہ کرتے ہوئے گلدستہ ہائے عقیدت پیش کیا ہے۔ ان کی تمام کتابیں اور کام دیکھ کر میں یہ سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں تاریخ کا مورخ ان کی کتابوں کو نہ صرف حوالہ کے طور پر لکھے گا بلکہ ان کی کتابوں کے بغیر تاریخ بھی نامکمل رہے گی۔ میں ان کو سر پھرے مجنوں،کام کے ساتھ دیوانے لوگوں میں ایک سمجھتا ہوں۔ جن کو صلے کی آرزو ہے نہ ستائش کی تمنا، نہ ہی کسی مالی منفعت کی طلب۔ اُن کو اپنے کام سے لگن اور دیوانگی تھی۔ اکثرادارے،تاریخ، تاریخ کے مورخ،محقق ایسے لوگوں کو اہمیت نہیں دیتے لیکن میں نے کئی مورخوں اور تاریخ دانوں کو اُن کے کام کی بدولت تاریخ میں زندہ و جاوہد دیکھا ہے۔ میرے اس عزیز نے وطن عزیز کے مشاہیر کے مدفون کی تاریخ مرتب کرکے آئندہ نسلوں کے لئے نہ صرف محفوظ کر دیا ہے بلکہ اپنا کام آئندہ نسلوں،اداروں، محققین کے لئے راہ گزر کی شمع فروزاں کی مسل پیش کردیا ہے۔ خدا انہیں حیات جاودانی عطا فرمائے۔
شاہد محمود سیالکوٹ 12/12/2










