*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈپٹی ہیلتھ آفس جھنگ کے ویکسینٹر جہانزیب پر خواتین ملازمین کو ہراساں کرنے کا الزام: ملزم کو معطل کر کے غیر جانبدانہ انکوائری کی جائے عوامی مطالبہ*
*ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل جھنگ کے دفتر میں تعینات جہانزیب ویکسینٹر کے خلاف خواتین ملازمین کو ہراساں کرنے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر عوامی اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر معطل کر کے غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے*
*تفصیلات کے مطابق، یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ عرصہ قبل ایک فیمیل ویکسینٹر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) جھنگ کو ایک تحریری درخواست دی۔ اس درخواست میں خاتون ویکسینٹر نے واضح طور پر الزام لگایا تھا کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل جھنگ کے دفتر میں تعینات جہانزیب ویکسینٹر اسے مختلف طریقوں سے ہراساں کرتا ہے*۔
*اس درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ اتھارٹی نے معاملے کی چھان بین کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے باضابطہ طور پر اپنی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے.تاہم، جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں نے اس انکوائری کے طریقہ کار پر اپنا موقف پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکوائری کے عمل کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ملزم ویکسینٹر جہانزیب کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ عوامی حلقوں کا موقف ہے کہ اگر ملزم اپنی موجودہ سیٹ پر برقرار رہا تو وہ انکوائری پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور حقائق کو دبانے کی کوشش کر سکتا ہے۔دوسری جانب، ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ملزم جہانزیب نہ صرف جونیئر ویکسینٹر ہے، بلکہ اسے غیر قانونی اور میرٹ سے ہٹ کر اسسٹنٹ سپروائزر ویکسینیشن (ASV) کا چارج دیا ہوا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ جہانزیب کو فوری طور پر ASV کی سیٹ سے ہٹا کر اس کی اصل سیٹ ویکسینٹر پر لگایا جائے اور دورانِ انکوائری اسے لازمی طور پر معطل رکھا جائے*۔
*سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین ملازمین کو ہراساں کرنے جیسے حساس معاملات میں انتظامیہ کو فوری اور سخت اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ دفتری ماحول کو خواتین کے لیے محفوظ بنایا جا سکے*۔
107










