*جھنگ(جاوید اعوان سے)سابق انچارج ہیڈ ماسٹر تریموں ھائی سکول پر مرحوم شخص کے جعلی دستخطوں سے سرکاری خزانے سے خطیر رقم نکلوانے کا الزام، اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ*
*جھنگ میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تریموں کے سابق انچارج ہیڈ ماسٹر، عمر شہزاد، پر انتہائی سنگین مالی بے ضابطگی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ایک مرحوم شخص کے جعلی دستخط کر کے سرکاری خزانے سے ایک خطیر رقم غیر قانونی طور پر نکلوا لی۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ سے اس معاملے کی فوری اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، استاد عمر شہزاد کچھ عرصہ پہلے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تریموں میں بطور انچارج ہیڈ ماسٹر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مبینہ طور پر اپنی تعیناتی کے دوران، انہوں نے سکول فنڈز کی رقم سرکاری خزانے سے نکلوائی۔اس لین دین میں ممتاز حسین نامی شخص ‘Co-Signature’ کے طور پر شامل تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر شہزاد نے ممتاز حسین کے انتقال ہو جانے کے بعد، ان کے جعلی دستخط استعمال کر کے یہ رقم نکلوائی، جو کہ سراسر غیر قانونی عمل ہے.اطلاعات کے مطابق، اس مبینہ ‘کار خیر’ میں ایک اور استاد بھی عمر شہزاد کے سہولت کار ہیں، جن کا تعین انکوائری کے بعد ہونے کی توقع ہے۔جب میڈیا ٹیم نے اس سنگین الزام پر انچارج استاد عمر شہزاد سے رابطہ کر کے ان کا مؤقف جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ:*
“*سکول میں اس سلسلے میں انکوائری چل رہی ہے، اس لیے میں اس پر کوئی موقف نہیں دے سکتا ہوں.عوامی اور سماجی حلقوں نے اس مالی بے ضابطگی کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور ایک اعلیٰ سطحی غیر جانبدار انکوائری کروائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور سرکاری فنڈز میں خرد برد کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے*۔
80










