*اٹ کھڑکا ( جیم الف ناصر )پھلور کا قابل فخر سپوت انسپکٹر ( ر) ملک محمد اکرام*
=============================ا
پھلور اپنے ضلعی صدر مقام ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 18 کلومیڑ دور فیصل آباد سے ملتان براستہ سمندری ؛ رجانہ جانے والی مین شاہراہ پر واقع ایک اہم قصبہ ھے ھے – پھلور کو اردگرد کے تقریباً بیس دیہاتوں میں مرکزی حیثیت حاصل ھے – یوں تو اس قصبہ نے بہت سی شخصیات کو جنم دیا لیکن آج میں جس شخصیت کا ذکر کرنے لگا ھوں انہوں نے اپنی جرآت ؛ ہمت اور بہادری سے پوری دنیا میں اپنی پہچان بنائی اور اپنے ضلع کا نام روشن کیا – کسی کو کیا معلوم تھا کہ اپنے عہد کے نامور پنجابی شاعر ملک عبد العزیز کے گھر جنم لینے والا بچہ جوان ھو کر ناموری حاصل کرے گا
ملک محمد اکرام ولد ملک عبد العزیز 1972 میں ابھی گورنمنٹ ہائی سکول موروثی پور میں میٹرک کا طالب علم تھا کہ فوج میں سپاہیوں کی بھرتیاں شروع ھو گئیں تو روز گار کے حصول کے لئے محمد اکرام نے بھی اپلائی کر دیا – موصوف فوج کے پہلے بلاوے پر ھی سلیکٹ کر لئے گئے
ان کے قد کاٹھ ؛ مردانہ وجاہت اور بہادری کو دیکھتے ھوئے
فوج کے افسران نے انھیں SSG کمانڈو کے لئے منتخب کر لیا
دوران ملازمت محمد اکرام نے بہادری کے بے شمار جوہر دکھائے جس سے وہ اپنے سنیئرز کی آنکھوں کا تارا بن گئے
1982 کی بات ھے جب انڈیا کے کچھ سکھ نوجوان انڈیا کا ایک بوئنگ طیارہ 737 اغواء کر کے لاھور ائیر پورٹ پر لے آئے- اس طیارے کے اغواء کی خبر جب BBC ریڈیو نے اپنے بلیٹن میں نشر کی تو پوری دنیا کی نظریں اغواء ھونے والے طیارے کی جانب اٹھ گئیں – جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کا دور تھا لہذا اس طیارے کے مسافروں کی ہائی جیکروں سے رہائی کا ذمہ پاک فوج کو سونپا گیا – فوجی افسران نے باھمی مشاورت کے بعد طیارے کے مسافروں کو ہائی جیکروں کے چنگل سے چھڑوانے کے لئے لاھور ائیر پورٹ کا انتظام SSG کمانڈو کے سپرد کر دیا – اور ان کی
بھاگ ڈور محمد اکرام کے سپرد کر دی – موصوف ایک سویپر بن کر اپنے ساتھیوں کے ھمراہ طیارہ میں داخل ھوئے
جہاز کی صفائی کے دوران ان کی عقابی نگاھوں نے فوراً ھی ہائی جیکروں کی تعداد اور ان کی جگہوں کا اندازہ لگا لیا
جہاز کی صفائی سے فارغ ھو کر جب تمام کمانڈوز جہاز سے نیچے اترے تو انہوں نے اپنے سنیئرز سے میٹنگ کی – جس میں محمد اکرام نے اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیتے ھوئے کہا کہ ہائی جیکروں کے سرغنہ کو میں قابو کروں گا جب کہ جہاز میں موجود دیگر ساتھیوں کو آپ قابو کریں گے پھر ایسا ھی ھوا جہاز کی صفائی کے دوران محمد اکرام ہائی جیکروں کے سرغنہ کی سیٹ کے پاس پہنچ گئے جب کہ دوسرے SSG کمانڈوز جہاز میں موجود دیگر ہائی جیکروں کی سیٹوں کے پاس پہنچ گئے – صفائی کرتے کرتے اچانک اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ھوئے محمد اکرام نے ہائی جیکروں کے سرغنہ کی گردن پر پیچھے سے اس زور سے مکا مارا کہ اس کا سر دوسری سیٹ کے ساتھ جا ٹکرایا – اس سے پہلے کہ سکھ ہائی جیکر کوئی کارروائی کرتا پھلور کی دھرتی کے اس مایہ ناز سپوت نے اس کی گردن پر چھلانگ لگا دی اور اسے سنبھلنے کا موقع ھی نہ دیا جب کہ دوسرے کمانڈوز نے دوسرے ہائی جیکرز کو قابو کر لیا یوں کچھ ھی منٹوں میں ہائی جیکروں کو قابو کر کے طیارہ اور اس کے مسافروں کو رہا کروا لیا گیا – محمد اکرام کی جرآت ؛ ہمت اور بہادری سے متاثر ھو کر اس وقت کے چیئرمین PIA نے پاک فوج سے محمد اکرام کی خدمات مستعار لے لیں یوں وہ پی آئی اے کی انٹر نیشنل فلائٹس میں بطور ائیر گارڈ
خدمات انجام دینے لگے – انہوں نے تقریباً 7/8 سال اپنی قومی ائیر لائن کے لئے کام کیا -اس دوران انھیں پوری دنیا کے ممالک دیکھنے کا موقع ملا – 1998 میں جب انہوں نے اپنی مدت ملازمت پوری ھونے پر پاک فوج سےریٹائرمنٹ لی تو اس وقت کی حکومت نے ان کی بہادری اور دلیری کا اعتراف کرتے ھوئے انھیں پنجاب پولیس کے نوجوانوں کی تربیت کے لئے ڈائریکٹ سب انسپکٹر بھرتی کر لیا – اور بعد ازاں جب ایلیٹ پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا تو ان کی خواہش پر ایلیٹ پولیس فیصل آباد ڈویژن کا پہلا انچارج بنا کر فیصل آباد بھجوا دیا گیا – محمد اکرام 1998 سے لے کر 2005 تک ایلیٹ پولیس میں رھے اس دوران ان کی ایمانداری اور بہادری کا اعتراف کرتے ھوئے انھیں اوکاڑہ
اور میانوالی ایلیٹ پولیس کی کمان بھی دی گئی – دوران ملازمت انہوں نے خود کو ہر طرح کی کرپشن سے پاک رکھ کر ناموری کمائی – یہی وجہ تھی کہ اس دور کے ایک ڈی آئی جی فیصل آباد پولیس طارق مسعود کھوسہ ان کی دل وجان سے نہ صرف قدر کرتے تھے بلکہ انھیں بے حد احترام بھی دیا کرتے تھے اور انھیں اپنے دفتر بلا کر کرسی پر بٹھایا کرتے تھے – ایلیٹ پولیس کی کمان کرتے ھوئے انہوں نے بہت سے مشکل ٹاسک مکمل کر کے دکھائے – ایک دن فیصل آباد پولیس کے اعلیٰ افسران کو اطلاع ملی کہ وہاڑی کا ایک دہشت گرد اعجاز ججی چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے پل کے پاس آرہا ھے جسے زندہ یا مردہ ہر حالت میں پکڑنا ھے -اعجاز ججی کی پولیس پر اتنی دہشت طاری تھی کہ اس کا نام سنتے ھی کہ بڑے بڑے پولیس والوں کے اوسان خطا ھو جایا کرتے تھے اور اس بات کا پولیس کے اعلیٰ افسران کو بھی علم تھا – چنانچہ کافی سوچ بچار کے بعد اس مشکل ٹاسک کی ذمہ داری محمد اکرام کو دی گئی – وہ ایلیٹ پولیس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری لے کر دریائے چناب کے پل کے پاس پہنچ گئے – اعجاز ججی اور اس کے ساتھی پولیس کو دیکھ کر مقابلہ پر اتر آئے – پنجاب پولیس کے اکثر افسران اور ملازمین تو پہلے ھی اس کی دہشت سے خوفزدہ تھے لہذا انہوں نے مقابلہ کرنے کی بجائے اعجاز ججی کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی
مگر پھلور کے اس شیر جوان نے تہیہ کر لیا کہ آج میرا آخری دن ھو گا یا پھر اعجاز ججی کا- موصوف نے اعجاز ججی اور دیگر ساتھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا – آخر کار ایک سیدھا برسٹ مار کر اسے ڈھیر کر ڈالا – اعجاز ججی کی ہلاکت پر اس کے دیگر ساتھی اپنا اسلحہ بارود وہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے – ڈاکوؤں کے مال غنیمت پر پنجاب پولیس کے شیر جوان پیاسے کوے کی طرح ٹوٹ پڑے- جس کے حصہ میں جو آیا وہ قابو کر گیا – جب کہ محمد اکرام نے اس کی کسی چیز کو ہاتھ تک نہ لگایا – اس وقوعہ کی اطلاع جب اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تک پہنچی تو انہوں نے فیصل آباد پولیس کو شاباش دی اور اعجاز ججی کو پولیس مقابلہ میں پار کرنے والے پولیس اہلکاروں کی فہرست مانگی تو اس وقت کے کئی فنکار پولیس افسروں اور اہلکاروں نے بڑی کوشش کی کہ حکومت پنجاب کو پولیس مقابلہ میں حصہ لینے والوں کی فہرست میں ان کا نام بھی آجائے اور وہ بھی انعام واکرام کے حق دار ٹھہریں لیکن اس وقت کے ڈی آئی جی پولیس نے حق سچ پر مبنی رپورٹ حکومت پنجاب کو ارسال کر دی – جس پر میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاھور میں ایک تقریب کا انعقاد کر کے پھلور کے اس جری نوجوان کی بہادری کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ انھیں سب انسپکٹر سے انسپکٹر بنا دیا – اور تقریب میں خود انھیں تیسرا پھول لگایا- یاد دلاتا چلوں کہ ملک محمد اکرام کے چھوٹے بھائی ملک محمد مشتاق ضیاء حال ھی میں ائیر فورس سے بطور سکوارڈن لیڈر ریٹائرڈ ھوئے ہیں جب کہ ملک محمد اکرام کے دو صاحبزادے محمد شاہد اکرام ( ایلیٹ پولیس فیصل آباد ) محمد طاہر اکرام ( پنجاب پولیس ) تھانہ ٹھیکریوالہ میں اپنی خدمات سر انجام دے رھے ہیں اور تیسرے صاحبزادے محمد زاہد اکرام پاک فوج میں ہیں- محمد اکرام
میرے لئے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں – 2004 میں جب میری پیرمحل شہر میں شادی ھوئی اور انہوں نے جس طرح میری بارات کو پولیس کا پروٹوکول دیا لوگ آج بھی اس کی مثال دیتے ہیں – 21 سال گزرنے کے باوجود بھی میری بارات کو ملنے والا پولیس پروٹوکول میرے گاؤں کے اکثر لوگوں کی نظروں میں ھے میرے سسرال والے آج تک مجھ سے خفا ہیں کہ آپ دلہن لینے آئے تھے یا کسی مجرم کو پکڑنے – یہ بات بھی قابل ذکر ھے کہ جب میری بارات کچی کوٹھی سسرالی گلی میں پہنچی تو ڈرائیور نے پروٹوکول والی پولیس گاڑی کا سائرن بجا دیا جس پر کچی کوٹھی کے اکثر رہائشی اپنے گھروں سے نکل کر باہر آگئے خدا خیر کرے کہیں شادی والے گھر پولیس کا ریڈ ھی نہ ھو گیا ھو جب کہ بارات کے استقبال کے لئے ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لے کر کھڑے سسرالی رشتہ دار خوفزدہ ھو گئے کیونکہ ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ میری بارات پولیس پروٹوکول میں آئے گی
دعا گو ھوں کہ اللہ پاک میرے بھائی ملک محمد اکرام کو صحت وسلامتی والی لمبی عمر عطاء فرمائے آمین
107










