*ادھوری محبتوں کے مزار*
یہ ایک اداس شام تھی میں اپنے گاوں سے سینکڑوں میل دور ادھوری محبتوں کے ایک مزار پر تنہا اداس بیٹھا ہوا تھا اور یہ محبتوں کا مزار ہیر رانجھا کا دربار بھی میرے دل کی طرح افسردہ افسردہ لگ رہا تھا یہ پرانے دریائے چناب کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر اجڑے ہوئے قبرستان میں آباد ہے سائیں الن فقیر میرے پاس بی بیٹھا ستار بجا رہا تھا ساتھ گا رہا تھا مائیں نئی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا میں بیٹھا جھنگ میں تھا میرا ذہن نارووال ظفروال کے ایک دور افتادہ کشمیر کے پہاڑوں سے بہتے ہوئے آتے نالہ بسنتر کے کنارے جنگل کے ساتھ صدیوں سے بسے ایک سرحدی گاوں بڑا پنڈ جرپال کی گلیوں میں گھومتے ہوئے اس عظیم شاعر جس کی یہ دل کو جھنجھوڑ دینے والی شاعری تھی شیو کمار بٹالوی کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا جو سالوں پہلے تقسیم وطن پر یہاں سے ہجرت کرگیا تھا اور دل میرے اپنے گاوں میرک پور نالہ ڈیک کے کنارے کھڑا اپنے پرانے بچھڑ گئے دوستوں کے نام لیتے دھڑک رہا تھا اور میں وہاں بیٹھا ہوا تھا سائیں الن فقیر کے پاس ایک اجڑے ہوئے دریا کے کنارے ایک ویران قبرستان میں ایک اداس مزار پر ایک صدیوں پرانے کرییر کے درخت تلے ایک چھوٹی سی مسجد کی چھوٹی سی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے جہاں پر کچھ کتابیں بھی میرے پاس ہی پڑی ہوئیں تھیں جو میں اپنے ساتھ لاہور سے لے گیا تھا وہ میں دو تین بار پڑھ چکا تھا سوچ رہا تھا اب کہاں جاوں کدھر کے لئیے نکلوں میرے تو یہاں کوئی زیادہ جاننے والے بھی نہیں تھے اسی اثناء میں میرا ایک بیج میٹ دوست ارباب سمیجھہ میرے لئیے چائے لے آیا جسے دیکھ کر طبیعت خوش ہوگی میں نے ایک کپ سائیں آلن کو بھی پیش کیا اور ساتھ میں سو روپے کا ایک نوٹ اس کی ستار کے ساتھ رکھ دیا وہ چائے کی چسکی لیتے ہوئے مجھے دعائیں دینے لگا سامنے مزار کی کھڑکی کی جالی کے ساتھ تین چار جوان لڑکے لڑکیاں رنگ برنگے دھاگے باندھ رہی تھیں جہاں پر پہلے بھی بہت سارے رنگ رنگ کے دھاگے بندھے ہوئے لٹک رہے تھے میں اپنے دوست سمیجھہ کو پوچھتا ہوں یار سمیجھہ یہ کیوں باندھ رہے ہیں وہ کہتا یہ محبتوں کا مزار ہے اور یہاں جوان لڑکے لڑکیاں اپنی محبتیں پانے کے لیئے منتیں مانتے ہیں اور دھاگے باندھتے ہیں اور جب کبھی ان کی منتیں پوری ہو جاتی ہیں تو یہ واپس آ کر اپنے دھاگے کھول جاتے ہیں میں بہت حیران بھی ہوا اور اداس بھی کہ یہ ان کا مزار تھا جن کی اپنی محبت کی کہانی ادھوری رہ گئی تھی جس کو سینکڑوں سالوں بعد یہاں سے کئی سو میلوں دور جنڈیالہ شیر خاں کے رہنے والے پنجابی زبان کے عظیم شاعر وارث شاہ نے پاکپتن کے ایک چھوٹے سے قصبہ ملکہ ہانس کی ایک مسجد کے حجرے میں بیٹھ کر لکھی اپنی کمال شاعری کے ذریعے ان کی بھولی بسری محبت کی ادھوری داستاں کو ہمیشہ کے لئیے لازوال و امر کر دیا تھا میرا دوست میرے چہرے کی اداسی دیکھ کر کہتا کیوں افسردہ ہو میں کہتا کچھ نہیں یہ روح کی اداسی ہے تم نہ سمجھو گے یہ آدھی آدھوری محبتیں بڑی ازیت ناک ہوتی ہیں ایسی محبتیں اس اژدھے کی مانند ہوتی ہیں جو آپ کو نگل جائے اور اپ کے وجود کا ریشہ ریشہ زخمی کرکے اگل دے۔اور آپ ساری عمر انہی زخموں کو سینچنے میں گزار دیں۔لیکن آپ کامیاب نہ ہو پائیں آخرکار موت ہی اس اذیت سے آزادی کا پروانہ آپ کے ہاتھ میں تھما دیتی ہے۔
اور یوں ادھوری محبتیں حسرتوں کے کفن اوڑھے منوں مٹی تلے دفن ہوکر اپنے پیچھے لازوال کہانیاں چھوڑ جاتی ہیں۔ میں کہتا ادب کی دنیا کے میرے ایک بزرگ ہیں ادھر انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند کی من بھگیا والے جناب ڈاکٹر سرجن محسن مگھیانہ صاحب تم مجھے ان کا پتہ سمجھا دو میں ان کو ملنا چاہتا ہوں وہ مجھے ان کا موبائل نمبر بھی دیتا ہے اور ان کے گوجرہ روڈ پر واقع فیصل مگھیانہ میموریل ہسپتال کا ایڈریس بھی سمجھاتا ہے میں کتابیں اٹھاتا ہوں ڈاکٹر صاحب سے فون پر رابطہ کرتا ہوں وہ مجھے کہتے ہیں آ جاو یہاں پر دیگر مرضوں کی سرجری کے ساتھ ساتھ علاج زخم دل شکستہ بھی کئیے جاتے ہیں میں پیدل ہی راستہ پوچھتے پوچھتے ان کے کلینک پر پہنچتا ہوں ایک نرس مجھے ڈاکٹر صاحب کے پاس لے چلتی ہے بوڑھے گورے چٹے سفید بال بڑھاپے میں بھی بڑی بڑی مونچھیں میں نے اپنے بارے بتایا تو بڑی خندہ پیشانی سے محبت اور شفقت سے ملے میرے لئیے پہلے جوس منگوایا پھر چائے آگئی ہسپتال کے دوسرے سارے کمرے مریضوں سے بھرے پڑے تھے ان کا آفس سرجیکل آلات اور میڈیسن کے ساتھ ساتھ کتابوں سے بھی اٹا پڑا تھا دیواریں دوسرے شاعروں ادیبوں کے ساتھ تصویروں اور پینٹنگز سے سجی پڑی تھیں لگتا تھا مریضوں کا علاج غم کے نسخوں میں دوائیوں کے ساتھ کتابیں بھی لکھتے تھے اردو پنجابی زبان و ادب میں ناول افسانہ کہانی مضمون نگاری سفر نامہ شاعری غزل نظم ماہیے دوہے بیت بازی ہر صنف سخن میں یدطولہ رکھتے ہیں تیس سے زائد کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں جن میں انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند،، من بھگیا،، اور سناو، بھاگ ڈاکٹر بھاگ، صرف بالغوں کے لیے،، مسلہ ہی کوئی نہیں،، ایک نہیں چار چار،، مگھیانے دیاں بولیاں،، پنڈ دی لاری،، شامل ہیں۔ میں نے اپنے ساتھ لائی ہوئی کلاسیکل اردو ادب کی کتابیں انہیں پیش کیئں تو ڈاکٹر صاحب نے اپنی سوانحعمری انوکھا لاڈلہ،، کھیلن کو مانگے چاند، مضامین کی کتابیں، ،بھاگ ڈاکٹر بھاگ،، اور پنجابی شاعری کی من بھگیا کتابیں اپنے آٹو گراف سے مجھے عنایت کیں اور میرے ساتھ یادگاری تصویریں بھی بنائیں اور پھر انہیں اپنی قیمتی آراء سے اپنے فیسبک پیج پر بھی سجایا، شاعری علم وادب تاریخ سیاحت صحافت اور علماء ادب جھنگ کی باتیں شروع کی تو اک دنیا کو اپنی باتوں کی چاشنی میں ڈبو کر سمندر کو کوزے میں سمیٹ دیا کہنے لگے کہ جھنگ محبتوں کی سرزمین ہے شعروادب صوفیاء اور درباروں کی سرزمین ہے، دو دریاؤں ، تین دوابوں، خوابوں ہیڈ تریموں کی سرسبز و شاداب سرزمین ہے۔ پھر مجید امجد، صفدر سلیم سیال، فرحت عباس شاہ، دانش نقوی، رام ریاض شیر افضل جعفری فرخ زہرا گیلانی اور راکب مختار کی علم وادب کے حوالے سے خدمات کا ذکر کرتے کہتے کہ اگر حضرت سلطان باہو اور وارث شاہ کی شاعری نکال دی جائے تو پنجابی زبان و ادب کے پاس کچھ نہیں بچتا میری ان سے اکثر ملاقاتیں رہتیں ہم نے پولیس اسٹیشن کوتوالی جھنگ کو اسپیشل انشیٹو کے تحت ڈیجٹلائزڈ اور رینوویٹ کیا تو انہیں مہمان خصوصی کے طور پر دعوت سخن دی بہت خوش ہوئے پھر ان کے ساتھ ایک محبت اور علم وادب کا سلسلہ رہا میرے ساتھ ہمیشہ بزرگانہ شفقت اور محبت سے پیش آتے میں وہاں سے آ گیا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے میری روح وہاں ہی رہ گئ ہے ادھوری محبتوں کے مزار پر، مجھے جھنگ ایسے ہی دل میں بسنے والے پیارے پیارے لوگوں کی محبت سے اپنا لگتا ہے فقط اک تمہارے وہاں ہونے سے مجھے سارا جھنگ اپنا لگتا ہے
شاہد محمود سیالکوٹ
21/12/2025










