108

*جھنگ(جاوید اعوان سے)بھٹہ مافیا بے لگام، انتظامیہ کی خاموشی نے عوام کا خون نچوڑ لیا* *سرکاری ریٹ 9 ہزار، فروخت 15 ہزار میں جاری؛ ضلعی انتظامیہ گراں فروشوں کے سامنے بے بس، شہریوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)بھٹہ مافیا بے لگام، انتظامیہ کی خاموشی نے عوام کا خون نچوڑ لیا*
*سرکاری ریٹ 9 ہزار، فروخت 15 ہزار میں جاری؛ ضلعی انتظامیہ گراں فروشوں کے سامنے بے بس، شہریوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ*
ضلع جھنگ میں انتظامیہ گراں فروشی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں بھٹہ مالکان نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اینٹوں کا سرکاری ریٹ 9 ہزار روپے فی ہزار مقرر ہونے کے باوجود بھٹہ مافیا 14 سے 15 ہزار روپے من مانے ریٹ وصول کر کے کھلی لوٹ مار میں مصروف ہے۔انتظامیہ خاموش تماشائی۔ذرائع کے مطابق، ضلع بھر میں تعمیراتی میٹیریل خصوصاً اینٹوں کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر بنانا ایک خواب بنا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بھٹہ مالکان کسی قانون کو خاطر میں نہیں لا رہے، جبکہ متعلقہ حکام اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس دفاتر تک محدود ہو کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ “انصاف خاموش ہے اور مافیا بے لگام، ایسا لگتا ہے جیسے یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں،” ایک متاثرہ شہری نے دہائی دیتے ہوئے کہا۔عوام کا معاشی استحصال ھو رھا ھے
عوامی سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بھٹہ مالکان کی جانب سے فی ہزار اینٹ پر 5 سے 6 ہزار روپے کا غیر قانونی منافع وصول کرنا غریب دشمنی کی انتہا ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹیں صرف کاغذوں کی زینت بن کر رہ گئی ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر فیصل آباد اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ:
* بھٹہ خشت پر فوری چھاپے مارے جائیں اور گراں فروشوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں۔
اینٹوں کی سرکاری نرخ نامے (9 ہزار روپے) پر فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ فرض شناس افسران کو فیلڈ میں بھیجا جائے تاکہ مافیا کی پشت پناہی ختم ہو سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اب بس بہت ہو چکا، اگر فوری طور پر سرکاری ریٹ پر عملدرآمد نہ کروایا گیا تو عوام احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں