*جھنگ(جاوید اعوان سے)سیوریج پراجیکٹ میں کروڑوں کے غبن کا انکشاف، ناقص میٹریل کے استعمال سے ’عوامی خزانے‘ پر شب خون.سب انجینئر اور کنسلٹنٹ غائب، غیر معیاری پائپ اور انڈر سائز سریا کا دھڑلے سے استعمال؛ مریم نواز سے اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ*
میونسپل کمیٹی جھنگ کی زیر نگرانی شہر بھر میں جاری سیوریج کا میگا پراجیکٹ کرپشن کی نذر ہونے لگا۔ ترقیاتی کاموں کے نام پر عوامی مینڈیٹ اور ٹیکس کے پیسوں کا بے دریغ زیاں، ناقص میٹریل کے استعمال نے پورے منصوبے کی افادیت پر سوالیہ نشان لگا دیے۔ موقع سے تکنیکی عملہ غائب، ٹھیکیدار کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئیں۔تکنیکی بدانتظامی اور خرد برد کی تفصیلات
ذرائع اور عوامی حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والے انکشافات کے مطابق، سیوریج لائنوں بچھانے کے دوران سنگین تکنیکی کوتاہیاں برتی جا رہی ہیں:
* نگرانی کا فقدان: مروجہ قوانین کے برعکس، کام کے دوران موقع پر نہ تو کوئی سب انجینئر موجود ہوتا ہے اور نہ ہی نام نہاد کنسلٹنٹ فرم کا کوئی نمائندہ، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھیکیدار غیر معیاری کام میں مصروف ہے۔
* ناقص میٹریل: پائپوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا سریا Under Size ہے، جبکہ پائپوں کے نیچے اور سائیڈوں پر بجری کی مقدار بھی انتہائی کم رکھی جا رہی ہے۔
* حفاظتی تدابیر کی کمی: ریت کو گرنے سے روکنے کے لیے شٹرنگ کا استعمال سرے سے غائب ہے، جس سے مستقبل میں زمین دھنسنے اور لائنیں ٹوٹنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
* غیر معیاری اینٹیں: مین ہول کی تعمیر میں اول درجے کی بجائے تیسرے درجے کی اینٹیں استعمال کی جا رہی ہیں، جو پانی کے دباؤ کے باعث کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہیں۔جھنگ کی عوام کا کہنا ہے کہ شہر کی بہتری کے نام پر ہمیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے تھا، مگر افسران اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت نے اسے “مال بناؤ مہم” میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر انڈر سائز سریا اور ناقص پائپوں کی موقع پر جانچ پڑتال کی جائے تو کروڑوں کے غبن کے ثبوت سامنے آ سکتے ہیں۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پرزور مطالبہ کیا ھے کہ:
* فوری طور پر “وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم” کے ذریعے اس پراجیکٹ کا آڈٹ کروایا جائے۔ مبینہ بدعنوانی میں ملوث میونسپل افسران، نااہل سب انجینئرز اور متعلقہ کنسلٹنٹ فرم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
* ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کر کے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔شہریوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اس “کرپشن زدہ” منصوبے پر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔
150










