123

*روح پاکستان عزم مصمم کا پیکر راقم تحریر*۔ *مہر محمد شریف* *ضلعی نائب صدر /میڈیا ایڈوائزر پنجاب ٹیچرز یونین ڈسٹرکٹ جھنگ*

*روح پاکستان عزم مصمم کا پیکر راقم تحریر*۔ *مہر محمد شریف*
*ضلعی نائب صدر /میڈیا ایڈوائزر پنجاب ٹیچرز یونین ڈسٹرکٹ جھنگ*
چمن سے ان کو گزرے ایک زمانہ ہو گیا لیکن
مگر ابھی تک وہ چشم نرگس کی حیرانی نہیں جاتی
پاکستان کے جلیل القدر بانی قائد اعظم محمد علی جناح کا نام نامی ،اسم گرامی جب حافظے کی سطح پر ابھرتا ہے یا قلم کی زبان پر آتا ہے تو میں روح پاکستان کی گہری بصیرت، مذبرانہ سوچ اور استقامت عزم پرورطہ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہوں اور میری آںکھوں کے سامنے تحریک پاکستان کے جیتے جاگتے متحرک اور عہد افرین ایام گھومنے لگتے ہیں میں ان کی گہری سوچوں میں ڈوب جاتا ہوں کہ خاکم بداہن اگر بر صغیر کے مسلمانوں کو قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میسر نہ آتی اور حکیم الامت علامہ محمد اقبال ان کو لیاقت علی خان کی وساطت سے مسلمانوں کی قیادت کے لیے لندن سے واپس نہ لاتے جہاں ہمیں آزادی کی نعمت غیر مرقبہ حاصل نہ ہوئی ہوتی وہاں ہمارا حال بھی بھارت کے سکھوں اور دوسری اقلیتوں جیسا ہوتا جن پر بنیاسامراج نے جینا محال کر رکھا ہے
قدرت جب کسی قوم پر مہربان ہوتی ہے یا اسے کسی قوم کی تقدیر سنوارنا مقصود ہوتی ہے تو اس قوم میں ایسے بے لوث اور سرفروش قائد پیدا کر دیتی ہے جو قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو اپنے حسن تدبر سے ساحل مراد تک لے جاتے ہیں بلا شبہ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمیں ایک ایسے مرد آہن کی بصیرت افروز قیادت نصیب ہوئی جس نے ٹوٹی ہوئی مالا کے دانوں کی طرح منتشر اور بکھرے ہوئے مسلمانوں کو مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم تلے متحد کر دیا اور ہمیں ازادیث کی ایک ایسی انمول نعمت سے ہمکنار کیا جو صدیوں کی جدوجہد کے بعد کسی قوم کا مقدر بنا کرتی ہے قدرت نے قوم کے اس عظیم محسن کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا اور وہ بلا شبہ انسانی خوبیوں کا ایک نہایت خوبصورت مرقع تھے
آج ہم قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش منا رہے ہیں اس عظیم انسان کا جس نے کروڑوں انسانوں کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کیا جس نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر ملک و ملت کو آزاد فضا میں جینے کا حق ادا کیا جس نے عصبیتوں کے پردے چاک کر کے ایک منتشر قوم کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا جس نے غلامی کی خزاں کو دھکے دے کر چمن سے باہر نکالا اور آزادی کی بہار کو مسند اقتدار پر بٹھا دیا یہ ترعیم وقت دنیائے راز جنہیں قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے موسوم کرتی ہے 25 دسمبر 1876 کو عالم عدم سے ہستی عدم وہاں میں تشریف لائے تاریخ اسلام نے بربت اٹھایا اور لحن داؤدی نے نغمات تہنیت گا کر آپ کو خوش آمدید کہا
ابتدائی تعلیم گوکل داس پرائمری سکول سے حاصل کی میٹرکولیشن کی سند بمبئی یونیورسٹی سے لی 16 سال کی عمر میں انگلستان چلے گئے اور 1896 کو اعزاز و تکریم کے ساتھ بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے وطن مالوف میں دوبارہ قدم رکھا 30 برس کی عمر میں کراچی میں ایک وکیل کی حیثیت سے جلوہ نما ہوئے بعد میں اپنی خودداری کو نمودار کرنے اور قابلیت کے جوہر دکھانے کے لیے ممبئی تشریف لے گئے ممبئی کے ایڈوکیٹ جنرل سر مسٹر میکفرسن نے ان کی طبیعت میں جواہر قابل دیکھ کر انہیں اپنی لائبریری سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دی اس واقعے سے قانونی حلقے ششدر ہو گئے کیونکہ تھوڑے ہی عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی قانون دانی کا لوہا منوایا قائد اعظم نے مسلم لیگ کے تنے مردہ میں اپنے حسن تدبر، بصیرت افروزی سے اس میں زندگی کا خون داخل کر کے ایک فعال اور بے مثال قوت بنا دیا اپ نے اپنے عزم مصمم اور علم و حکمت سے انگریزوں کی شاطرانہ چالوں پر اور ہندوؤں کی مکاریوں کے منہ پر وہ تھپڑ رسید کیے کہ ان کی چیخیں سمندر کا سینہ چیر کے انگلستان کے ایوانوں سے جا ٹکرائیں آپ نے اپنے جوش عمل اور فاتحانہ کردار سے انگریز کو یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا گیا کہ ہندوستان میں صرف ہندو نہیں بستے بلکہ وہ قوم بھی آباد ہے جس کے ابا و اجداد نے یہاں 800 سال حکومت کی کر کے برصغیر کے نقشے میں اپنی عظمت و سطوت کے رنگ بھرے جس کے خنجر ہلال کے سامنے بڑے بڑے باجبوت انسان بھی لرزہ براندام تھے نہرو اور پٹیل کی چالیں اپ کی سیاست کے سامنے بے دم ہو کر گر پڑی گاندھی کے فلسفے کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھر گئیں اور ہندو کی تمام مکاریاں ہمالیہ کی چوٹیوں سے ٹکرا کر بحر ہند کی موجوں میں غرق ہو گئی آج روح پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی عظمت کا مینار یعنی پاکستان ان کی یاد تازہ کر رہا ہے اور دعوت عمل دے رہا ہے کہ ہم اٹھیں اور اس سرزمین کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں اس نعرہ مستانہ کی گونج پھر دشت و جبل میں پیدا کر دیں جس نے راوی اور چناب کی لہروں کو گنگا جمنا کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا تھا لیکن ہم نے اس نعرے کو فراموش کر دیا ہے اب پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کا ایک ہی نسخہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نظام حیات اس پاک سرزمین پر نافذ کر دیا جائے
ہزار دیپ جلا کر جو آپ بجھ جائے
ہم اس چراغ کے بجھنے کا غم نہیں کرتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں