90

*جھنگ (جاوید اعوان سے)سرکاری گرلز سکولز میں مبینہ بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات، انکوائری کا مطالبہ*

*جھنگ (جاوید اعوان سے)سرکاری گرلز سکولز میں مبینہ بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات، انکوائری کا مطالبہ*
جھنگ صدر میں واقع ایک سرکاری گرلز سکولز کی انتظامیہ کے خلاف مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال، بدانتظامی اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جس پر شہری اور سماجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، سکولز کی حدود کے اندر کنٹین کو ذاتی طور پر چلائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جہاں مبینہ طور پر یومیہ بنیادوں پر مالی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ سکول کے اطراف واقع دکان داروں کو سکول اوقات کے دوران اپنی دکانیں بند کرنے کے لیے دباؤ میں رکھا جاتا ہے، اور بعض اوقات مختلف اداروں کو شکایات کر کے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔
نزدیکی یوسف شاہ روڈ اور چرچ روڈ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ مسائل سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کیے ہیں، تاہم بعض افراد کے مطابق اس دباؤ کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ خواتین افسران ماضی میں مبینہ کرپشن کی بنیاد پر جبری ریٹائر کی جا چکی ہیں، تاہم بعد ازاں سروس ٹربیونل سے بحال ہو کر دوبارہ ایک اہم عہدے پر تعینات ہیں، جہاں وہ اسی نوعیت کے اختیارات استعمال کر رہی ہیں۔
دوسری جانب، شہر کے ایک سرکاری گرلز ہائی سکول کے ہاسٹل کے حوالے سے بھی تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبات کے لیے مختص سرکاری ہاسٹل میں مبینہ طور پر نجی افراد کو غیر قانونی طور پر رہائش دی گئی ہے، جبکہ بجلی اور گیس کے بل سرکاری خزانے سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ ان نجی رہائشیوں سے وصول کیا جانے والا کرایہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں ۔
اس ضمن میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) نے معاملے پر وضاحت طلب کی تھی، تاہم اس پر تاحال کوئی تسلی بخش جواب سامنے نہیں آ سکا۔ اعلیٰ سطح پر مبینہ خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
شہری و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ:ان الزامات کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کرائی جائے۔سرکاری ہاسٹل کو فوری طور پر اصل مقصد کے لیے بحال کیا جائے
سرکاری وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کی مکمل جانچ کی جائے۔ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے، جس کا سختی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں