*اٹھارہ ہزاری (جاوید اعوان سے)تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹھارہ ہزاری میں ’اندھیر نگری‘، مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف۔ایڈھاک ختم ہونے کے باوجود ڈینٹل سرجن عبد الخالق کے مریضوں کو چیک کرنے کا انکشاف، ایم ایس کی خاموشی پر سوالات اٹھ گئے*
*ڈاکٹر پر خاتون مریضہ کو ہراساں کرنے کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے، عوامی حلقوں کا ڈی سی جھنگ اور سی ای او ہیلتھ سے فوری نوٹس کا مطالبہ*
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹھارہ ہزاری مسائل کا گڑھ بن گیا، یہاں قانون اور ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک ایسے ڈاکٹر کو مریضوں کے علاج کی اجازت دی جا رہی ہے جس کا نہ تو تقرر نامہ موجود ہے اور نہ ہی کردار بے داغ ہے۔
بغیر آرڈرز ڈیوٹی اور ’آشیرباد‘ کا معمہ
ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عبد الخالق (ڈینٹل سرجن) جو کہ عرصہ دراز سے ٹی ایچ کیو ہسپتال اٹھارہ ہزاری میں تعینات تھے، ان کا ایڈھاک پیریڈ ختم ہو چکا ہے۔ قانوناً رینول (توسیع) کے بغیر کوئی بھی سرکاری ملازم ڈیوٹی سرانجام نہیں دے سکتا، مگر مذکورہ ڈاکٹر ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی مبینہ ملی بھگت اور ’آشیرباد‘ سے شام کے اوقات میں باقاعدگی سے مریضوں کا چیک اپ کر رہے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ آرڈرز نہ ہونے کے باعث مذکورہ ڈاکٹر کو تنخواہ کی ادائیگی بھی نہیں ہو رہی، جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ وہ کس حیثیت اور مفاد کے تحت ہسپتال میں کام کر رہے ہیں۔
سابقہ مجرمانہ ریکارڈ اور اخلاقی الزامات
خبر کے مطابق ڈاکٹر عبد الخالق کا ماضی بھی داغدار رہا ہے۔ ان پر ایک خاتون مریضہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں تھانہ اٹھارہ ہزاری میں باقاعدہ مقدمہ درج ہوا تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موصوف نے بھاری رقم دے کر مدعی مقدمہ سے صلح کی، تاہم ایسے سنگین مقدمے کے اندراج کے باوجود ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے انہیں معطل نہ کرنا محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
علاقے کے عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال جیسے مقدس ادارے میں ایسے مشکوک کردار کے حامل شخص کا ہونا مریضوں، بالخصوص خواتین کے لیے خطرے کا باعث ہے۔
عوامی حلقوں نےڈپٹی کمشنر جھنگ، علی اکبر بھنڈر۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی، ڈاکٹر یونس منیر۔اسسٹنٹ کمشنر اٹھارہ ہزاری، میاں ثناء اللہ ہنجرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، غیر قانونی طور پر کام کرنے والے ڈاکٹر کو ہسپتال سے بے دخل کیا جائے اور غفلت برتنے والے ایم ایس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
44










