*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈپٹی ڈی ایچ او کے دفتر میں مبینہ بے ضابطگیاں، اپنی ھی آشیرباد سے چوکیدار کو ڈیٹا انٹری آپریٹر بنا دیا گیا*
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ میں مبینہ اقربا پروری اور قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DDHO) تحصیل جھنگ کی مبینہ آشیرباد سے چوکیدار کی سیٹ پر بھرتی ملازم دفتر میں بیٹھ کر ڈیٹا انٹری آپریٹر کے فرائض سرانجام دینے لگا، جس پر عوامی و سماجی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔سیکرٹری صحت کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے۔ذرائع کے مطابق، محکمہ صحت پنجاب اور سیکرٹری صحت نے صوبہ بھر میں تمام اقسام کی عارضی ڈیوٹیاں (Attachment) اور غیر متعلقہ عہدوں پر کام کرنے کو سختی سے ممنوع قرار دے رکھا ہے، تاہم تحصیل جھنگ کے دفتر میں ان احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملازم کا نام توقیر عباس ھے اور اسکا
اصل عہدہ چوکیدار کا ھے (تعیناتی کسی جی آر ڈی پر ھے مگرموجودہ ذمہ داری ڈپٹی ڈی ایچ او آفس میں بطور ڈیٹا انٹری آپریٹر کی نبا رہا ھے۔ سیاسی یا ذاتی اثر و رسوخ کی بنیاد پر فیلڈ ڈیوٹی کی بجائے دفتر میں تعیناتی ھے
جھنگ کے عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پڑھے لکھے نوجوان نوکریوں کے لیے دربدر ہیں، تو دوسری طرف چوکیداروں کو ٹیکنیکل سیٹوں پر بٹھا کر میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا دفتر سیکرٹری صحت پنجاب کے احکامات سے بالاتر ہے؟
عوامی حلقوں نے درج ذیل حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے:
علی اکبر بھنڈر، ڈپٹی کمشنر جھنگ
ڈاکٹر محمد یونس منیر، چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ اتھارٹی جھنگ
مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی تعیناتی کو فوری ختم کر کے متعلقہ ملازم کو اس کی اصل جگہ بھیجا جائے اور انکوائری کی جائے کہ کس کے ایما پر سرکاری قواعد کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
66










