65

*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔میڈیکل ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر کنٹرول کے لیے کوئی میکانزم موجود نہیں، مریض پریشان*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)۔میڈیکل ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر کنٹرول کے لیے کوئی میکانزم موجود نہیں، مریض پریشان*
پنجاب بھر میں اشیائے خوردونوش، پیٹرولیم مصنوعات، ریلوے، بسوں اور یہاں تک کہ ہوائی جہاز کے کرایوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سرکاری سطح پر مختلف کمیٹیاں اور ادارے متحرک ہیں، مگر انسانی زندگی سے جڑے سب سے اہم شعبے “صحت” میں نجی ڈاکٹروں کی فیسوں اور لیبارٹری ٹیسٹوں کے نرخ مقرر کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ ضلع جھنگ سمیت صوبے بھر میں نجی معالجین اور لیبارٹری مالکان نے من مانے ریٹس مقرر کر رکھے ہیں، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
خودساختہ فیسوں کی بھرمار۔شہریوں کا کہنا ہے کہ یہاں حکومت آٹے، چینی اور دالوں کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیاں بناتی ہے، وہیں نجی اسپتالوں اور کلینکس کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ ڈاکٹر حضرات جب چاہتے ہیں معائنہ فیس (Check-up Fee) میں 500 سے 1000 روپے تک کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ غریب مریض جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، ڈاکٹر کی بھاری فیس اور مہنگے میڈیکل ٹیسٹوں کی وجہ سے علاج کرانے سے قاصر ہو چکا ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹ ایک نیا گورکھ دھندہ
عوامی حلقوں کے مطابق مختلف لیبارٹریوں میں ایک ہی ٹیسٹ کی قیمتیں مختلف ہیں۔ تشخیصی ٹیسٹوں کے لیے کوئی سرکاری ریٹ لسٹ آویزاں نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے مریضوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ اکثر کلینکس اور لیبارٹریوں کے درمیان مبینہ “کمیشن” کے گٹھ جوڑ نے علاج کو ایک مہنگا کاروبار بنا دیا ہے۔جھنگ کے سماجی و عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ:
جس طرح اشیاء خوردونوش کے لیے ضلعی انتظامیہ نرخ مقرر کرتی ہے، اسی طرح پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ذریعے ڈاکٹروں کی فیسوں اور ٹیسٹوں کے چارجز کی حد مقرر کی جائے۔نجی کلینکس پر واضح ریٹ لسٹ آویزاں کرنا لازمی قرار دیا جائے۔
فیسوں میں بلاجواز اور خودساختہ اضافہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
مریضوں کا کہنا ہے کہ “صحت کی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسے چند لوگوں کی من مانیوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہیے”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں