* *یہ سچ ہے کہ غریب پستا ھے**کالم نگار* *نزاکت خان بلوچ*
جب تک انسان کو درد کی چوٹ اور اس کا احساس نہ ہو وہ ہرگز اس کا علاج کرنے کے لیے فکر مند نہیں ہوتا اور نہ کوئی ایسا عمل انجام دیتا ہے جس سے آئندہ اسے اس درد کا سامنا نہ کرنا پڑے اہل جھنگ اس وقت اس درد خوف اور ڈر میں مبتلا ہے جھنگ جو کبھی خوف و حراس سے بھرا ہوا کرتا تھا پھر آہستہ آہستہ اس شہر زندان میں کچھ امن آیا اور لوگوں نے آسان زندگی گزارنی شروع کی مگر پچھلے کچھ مہینوں سے ہونے والے پے در پے خونی واقعات کے بعد دوبارہ عدم تحفظ اور تشویش کی لپیٹ میں آ چکا ہے مگر انتظامیہ خواب خرگوش میں مگن ہے سوال یہ ہے کہ آئے روز جھنگ میں لڑائی جھگڑے بڑھ رہے ہیں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے اس پر حکومت پنجاب اور امن و امان کو کنٹرول کرنے والے اداروں نے کیا حکمت عملی اپنائی ہے کیا جھنگ کو ایک مرتبہ پھر خوف کا شہر بنانا چاہ رہے ہیں یہاں کے لوگ ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کسی کی بھی اشتعال انگیزی پر صرف نظر سے کام لیا جائے چند دن پہلے لاری اڈا چوک پر دن دہاڑے دو سیاسی گروپوں میں تصادم کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری کی موت واقع ہو گئی اور کئی زخمی ہو گئے سیاست کو چمکانے کے لیے غریبوں کا خون کب تک بہایا جائے گا یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مثبت کردار و اعمال کو شہرت کی وہ منزلیں حاصل نہیں ہوتی جو منفی کردار واعمال کو حاصل ہوا کرتی ہیں اس لیے آج کل کچھ لوگوں نے یہ روش اختیار کر لی ہے کہ شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے کام و کلام انتخاب کرتے ہیں جس سے وہ راتوں رات مشہور ہو جائیں جبکہ ظاہر ہے کہ یہ ناروا روش ہے اہل جھنگ چیخ چیخ کر پوچھتا ہے شیخ وقاص اکرم گروپ اور شیخ معظم وحید گروپ سے کہ آپ لوگوں کی سیاسی لڑائی کی وجہ سے اس غریب کی جان چلی گئی کبھی سوچا ہے آپ لوگوں نے کہ وہ بیوہ جسے دو ماہ ہوئے تھے ابھی اپنی نئی دنیا میں گھر بیٹھے ابھی تو اس کے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری ہو گی نا جانے زندگی کے کیا خواب سجائے بیٹھی ہو وہ کہ اسے خبر آئے کہ اس کا خاوند وڈیروں کی وحشتوں میں زندگی سے محروم ہو گیا ہے تو اس وقت اس پر کیا قیامت گزری ہوگی کیا اپ ایک لمحے کو محسن کی ماں کے دکھ کا گہرائی کا اندازہ کر سکتے ہیں جس کی ویران انکھوں میں اترے انسوؤں کو یہ بھی خبر نہ ہو کہ انہیں بیوگی کے دکھ میں بہنا ہے یا لاچار ممتا کے ان بہنوں کے ارمان پامال کر کے ان پر اقتدار کی راہ گزر بنانے والے کیا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس سوال کا جواب دے سکیں گے کہ جو بھائی ہر دکھ میں ان کے لیے چھاؤں بن جاتا تھا کیا اب وہ گھنا درخت کوئی واپس لوٹا سکتا ہے
وہ دور اب دور نہیں ہے
کہ وقت جب منصفی کرے گا
کبھی تو تاریخ کی عدالت میں
تم بھی آؤ گے ہم بھی آئیں گے
84










