142

*جھنگ(جاوید اعوان سے)جھنگ کے بیشتر ہسپتال مبینہ طور پر’موت کے سوداگر’ بن گئے: بغیر پیتھالوجسٹ لیبارٹریوں کا انکشاف*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)جھنگ کے بیشتر ہسپتال مبینہ طور پر’موت کے سوداگر’ بن گئے: بغیر پیتھالوجسٹ لیبارٹریوں کا انکشاف*
جھنگ کے اکثر نجی ہسپتالوں میں مبینہ طور پر انسانی زندگیوں سے سنگین کھلواڑ کا انکشاف ہو رھا ھے۔ شہر اور گردونواح کے ہسپتالوں میں قائم کلینیکل لیبارٹریز مبینہ طور پر بغیر کسی مستند پیتھالوجسٹ کے چلائی جا رہی ہیں، جس سے مریضوں کی تشخیص محض ایک “خطرناک جوا” بن کر رہ گئی ہے۔ لیبارٹریوں کی ناقص رپورٹس سے مریضوں کے علاج میں بہتری کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے اور اموات کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔
رپورٹس نہیں، موت کے پروانے تقسیم ہو رہے ہیں
ذرائع کے مطابق، ضلع بھر میں قائم درجنوں لیبارٹریوں میں ٹیکنیشنز ہی “ڈاکٹر” بنے بیٹھے ہیں۔ قانون کے مطابق کسی بھی لیبارٹری رپورٹ پر ایک مستند پیتھالوجسٹ (MBBS/DCP/M.Phil) کے دستخط اور اس کی نگرانی لازمی ہے، لیکن جھنگ میں یہ قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ ان لیبارٹریوں سے جاری ہونے والی غلط رپورٹس کی بنیاد پر جب ڈاکٹر ادویات تجویز کرتے ہیں تو وہ مریض کے لیے شفا کے بجائے زہر بن جاتی ہیں۔جس پر ہیلتھ انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی ھے
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے مقامی افسران کی ملی بھگت سے یہ کالا دھندہ عروج پر ہے۔ غریب مریض اپنی جمع پونجی ان لیبارٹریوں کی نذر کر دیتے ہیں، جبکہ بدلے میں انہیں غلط تشخیص کے ذریعے موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر اور سیکرٹری صحت سے فوری مداخلت کی اپیل
اہلِ جھنگ نے صوبائی وزیر صحت پنجاب، سیکرٹری صحت اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (PHC) سے مطالبہ کیا ہے کہ جھنگ کے ہسپتالوں کی لیبارٹریوں پر فوری چھاپے مارے جائیں۔
بغیر پیتھالوجسٹ کام کرنے والی لیبارٹریوں کو فوری سیل کیا جائے۔
انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے ان “وائٹ کالر مجرموں” کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد اس معاملے پر ایکشن نہ لیا گیا تو وہ شدید احتجاج پر مجبور ھوں گے، کیونکہ اب معاملہ صرف پیسوں کا نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں