121

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیلتھ اتھارٹی جھنگ میں ‘گھوسٹ کمپنیوں’ کا راج، لاکھوں کے وارے نیارے، بڑے سکینڈل کا انکشاف۔میسرز سنی انٹرپرائز کے نام پر لاکھوں کی بوگس ادائیگیاں؛ لیٹر پیڈ پر درج نمبر بند، پتے لاپتہ۔کرپشن کی گنگا بہنے لگی، اعلیٰ حکام خاموش تماشائی، اینٹی کرپشن سے فوری انکوائری کا مطالبہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیلتھ اتھارٹی جھنگ میں ‘گھوسٹ کمپنیوں’ کا راج، لاکھوں کے وارے نیارے، بڑے سکینڈل کا انکشاف۔میسرز سنی انٹرپرائز کے نام پر لاکھوں کی بوگس ادائیگیاں؛ لیٹر پیڈ پر درج نمبر بند، پتے لاپتہ۔کرپشن کی گنگا بہنے لگی، اعلیٰ حکام خاموش تماشائی، اینٹی کرپشن سے فوری انکوائری کا مطالبہ*
*ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی جھنگ بدعنوانی اور لوٹ مار کا گڑھ بن گئی، یہاں “بے نامی” اور “کاغذی” کمپنیوں کے ذریعے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا لگانے کا شرمناک انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کے اندر بیٹھے کالی بھیڑوں نے مبینہ ملی بھگت سے میسرز سنی انٹرپرائز نامی ایک ایسی کمپنی کو لاکھوں روپے کی ادائیگیاں کر دیں جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے.بھوت پریت کا کھیل یا افسران کی جادوگری*؟
*حیرت انگیز انکشاف ہوا ھے کہ جس فرم (سنی انٹرپرائز) کو ادائیگیاں کی گئیں، اس کے لیٹر پیڈ پر درج موبائل نمبرز سرے سے بند پڑے ہیں، جبکہ فرم کا دیا گیا پتہ بھی نامکمل اور فرضی نکلا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ “فائلیں پیٹ” کرنے اور کمیشن مافیا کی جیبیں بھرنے کے لیے کیا گیا ہے*۔ *ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہیلتھ اتھارٹی میں سرکاری فنڈز کو مالِ غنیمت سمجھ کر بانٹا جا رہا ھے*۔
*شہریوں اور سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادویات اور طبی سہولیات کے نام پر آنے والا پیسہ فرضی کمپنیوں کی نذر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری صحت اور ڈی جی اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ میسرز سنی انٹرپرائز کو کی جانے والی تمام ادائیگیوں کا ریکارڈ قبضے میں لیا جائے*۔
*اس “گھوسٹ کمپنی” کے پیچھے چھپے اصل کرداروں کو بے نقاب کیا جائے*۔
*خرد برد میں ملوث افسران اور کلرکوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے*۔
*ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کی شفاف انکوائری ہوئی تو کئی بڑے برج الٹ سکتے ہیں اور مزید کئی “بے نامی” فرمز کے کچے چٹھے کھلنے کا امکان ھے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں