178

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈی ایچ کیو ہسپتال: ڈرائیور ریاض کی “کرپشن ایکسپریس” کا انکشاف، ارب پتی بننے کا معمہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈی ایچ کیو ہسپتال: ڈرائیور ریاض کی “کرپشن ایکسپریس” کا انکشاف، ارب پتی بننے کا معمہ*
*ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ، یہاں غریب مریض ادویات کو ترستے ہیں، وہاں ایک درجہ چہارم کا ملازم “علاء الدین کا چراغ” ہاتھ لگنے سے کروڑوں کا مالک بن گیا. ہسپتال کا ڈرائیور ریاض، جو برسوں سے مبینہ کرپشن کا بے تاج بادشاہ بنا ھوا ھے، اس وقت عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن چکا ھے*
*​افسروں کا “منظورِ نظر” اور شیشے میں اتارنے کا جادو*
*​ذرائع کا دعویٰ ھے کہ ریاض نامی اس ڈرائیور کے پاس ایسا “جادوئی سحر” ھے کہ ہسپتال میں آنے والا ہر نیا افسر اس کی زلف کا اسیر ھو جاتا ھے۔ ہسپتال کا کوئی بھی شعبہ اس کی “آشیرباد” کے بغیر نہیں چل سکتا۔ حیرت انگیز انکشاف یہ ھوا ھے کہ ہسپتال کی انتظامیہ مبینہ طور پر اس ڈرائیور کی لاکھوں روپے کی مقروض رہتی ھے، جس کی وجہ سے افسران بالا اس کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں*۔
*​فری پٹرول اور اثر و رسوخ کا کھیل*
*​خبر گرم ھے کہ افسران کی گاڑیوں میں دوڑنے والا پٹرول اسی “ڈرائیور نما ٹائیکون” کی مرہونِ منت ھے۔ یہی وجہ ھے کہ سنگین شکایات کے باوجود اسے ہاتھ لگانا ناممکن بنا ھوا ھے۔ موصوف کی اہلیہ بھی اسی ہسپتال میں ملازمت کرتی ہیں اور دونوں میاں بیوی نے مل کر مبینہ طور پر ہسپتال کو “سونے کی چڑیا” بنا رکھا ھے*۔
*​بے نامی جائیدادیں*، *کوٹھیاں اور سکولز: دولت کی ریل پیل۔​سرکاری طور پر محض ایک ڈرائیور کی تنخواہ پر گزارا کرنے والے ریاض نے مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے متعدد قیمتی گاڑیاں​وسیع زرعی رقبے ​عالی شان کوٹھیاں اور مکانات۔​پرائیویٹ سکولز اور پلاٹس ​بنا رکھے ہیں، جن میں سے بیشتر “بے نامی” بتائے جاتے ہیں۔ ان تمام اثاثوں کی ہوش ربا* *تفصیلات اگلے شمارے میں منظرِ عام پر لائی جائیں گی*۔
*​عوامی مطالبہ اور اعلیٰ حکام کو درخواست*
*​عوامی اور سماجی حلقوں نے ایم ایس (MS) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ سے مطالبہ کیا ھے کہ ​ریاض کو فی الفور اس کی اصل سیٹ (ڈرائیور) پر واپس بھیجا جائے.​جنریٹرز اور ڈیزل سپلائی جیسے “کمانے والے” شعبوں سے اس کا قبضہ ختم کیا جائے*۔
*​شہریوں نے اعلان کیا ھے کہ وہ بہت جلد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کو باقاعدہ درخواست گزار رھے ہیں تاکہ اس جوڑے کے اثاثوں کی مکمل انکوائری ھو سکے اور ہسپتال کے فنڈز پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں