*جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے*
*راقم تحریر مہر محمد شریف*
*ضلعی نائب صدر/ میڈیا ایڈوائزر پنجاب ٹیچرز یونین ڈسٹرکٹ جھنگ*
جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا
5 فروری کا دن کشمیری مسلمان بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اظہار ،ہمدردی اور محبت و یگانگت کے اظہار کا دن ہے اور یوم عہد تجدید بھی ہے کہ جو 77 سال سے ہم کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی ، مذہبی، ثقافتی اور سفارتی حمایت کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں وہ انشاءاللہ جاری رہے گا آج دنیا اپنے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں حل طلب مسائل جن کی وجہ سے تیسری عالمگیر جنگ کے گھناونے بادل دنیا کی فضائے بسیط پر محیط ہو چکے ہیں ان میں سے ایک اہم ترین مسئلہ کشمیر بھی ہے کشمیر جسے ملت اسلامیہ جنت نظیر کہتے ہیں جسے قدرت نے اپنے حسن کی لطافتوں اور اپنے شباب کی تمام تر نزاکتوں سے مالامال کر رکھا ہے سری نگر کی سحر انگیز فضائیں ہوں یا ادم پورہ اسلام اباد کثے خوبصورت وادیاں ہوں یا جموں کے لیلہاتے کھیتئ ،لداخ بلتستان کے برف پوش پہاڑ ہو یا پوث کے گنگناتے جھرنے ہوں اس جنت نظیر وادی کے قدرتی حسن کو نمایاں کرتے ہیں تقسیم پاک و ہند کے وقت کچھ ریاستوں کے الحاق کا فیصلہ ان کی عوام کی منشا پر چھوڑ دیا گیا تھا ان میں سے ایک ریاست کشمیر تھی مگر عین تقسیم کے وقت ہندوؤں نے انگریزوں سے ساز باز کر کے ضلع گرداسپور کو ہندوستان میں شامل کروا کر یوں بھارت کو کشمیر سے زمینی رستہ فراہم کیا اور کشمیری سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے لیے فوجیں اتار دیں اس پر مجاہدین اسلام نے علم جہاد بلند کیا اور بھارتی سامراج سے 4144 مربع میل کا علاقہ آزاد کروا لیا جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں مجاہدین سری نگر پر قبضہ کرنے والے تھے کہ بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اقوام متحدہ سے جنگ بندی کا پروانہ لے آئے اور اعلان کیا کہ ہم اس امر کا اعلان کر چکے ہیں کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے اور 1951 تک کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کرتے رہے کشمیری سرزمین پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد 1954 میں میں کشمیر جنت نظیر کو اپنا ٹوٹ انگ قرار دے دیا
زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
اج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے
آخر کار 1989 سے کشمیری مسلمانوں نے ہندو بنیے سے مذاکرات کی بجائے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تو کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے بھارت نے 8 لاکھ فوج وادی کشمیر میں اتار دی آج وادی کشمیر جل رہی ہے کشمیریوں کے سینے بھارتی توپوں کی سنگینوں سے چلنے کیے جا رہے ہیں کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کی اس جنگ میں کود پڑا ہے مرد و زن، بوڑھے، بچے آزادی کشمیر کے پرچم تھامے وادی کشمیر کے کونے کونے میں پھیل گیا ہے اور آج جنت نظیر وادی کشمیری مجاہدین کے خون سے لہو رنگ ہو رہی ہے دریائے جہلم کا پانی کشمیریوں کے خون سے سرخ ہو رہا ہے ولر اور ڈل جھیلیں خون کے انسو رو رہی ہیں کشمیریوں کے مرغزار جو بارچمن اور کوہستان نالہ کناں ہیں کشمیر جنت نظیر ماتم کدہ بنا ہوا ہے بھارتی درندوں نے اس وادی کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے اٹھ لاکھ بھارتی افواج کشمیری حریت پسندوں کی تحریک حصول حق خود ارادیت کو بزور قوت کچلنے کی مضموم کاروائیوں میں مسلسل مصروف کار ہے اب تک 90 ہزار بے ساز برگ کشمیری مسلمانوں کا خون اس تحریک آزادی میں شامل ہو چکا ہے بھارتی درندے ہزاروں کشمیری عورتوں کی عصمتیں لوٹ چکے ہیں آج بھارتی درندوں کے جبر و استبدار ، متشددانہ سلوک پر کشمیری نوجوانوں کی رگوں میں لہو کھول رہا ہے ان کے خون کی روانی میں کشمیری کے جھرنوں کا ترنم ہے آج کے کشمیر نے جو انگڑائی لی ہے تو وادی کشمیر کے چناروں کی اگ نے نوجوانوں کے دلوں میں حیدر اباد اور جونا گڑھ کے لگائے ہوئے زخموں کو تازہ کر دیا ہے آج کشمیر کی وادی اپنے جانباز بیٹوں کو پکار رہی ہے کشمیری بیٹیاں آج محمد بن قاسم کو پکار رہی ہیں آج سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے انہیں کشمیریوں کی آہ و بکا سنائی کیوں نہیں دے رہی انہیں وحشیانہ و بہیمانہ قتل عام نظر کیوں نہیں ارہا محض رسمی مذمت کی سوا کچھ نہیں کر رہے اقوام عالم کی کشمیری مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم پر مجرمانہ چشم پوشی ہنودویہود اور مسیحت کے مضموم عزائم اور دراصل صلیبی جنگوں کے آغاز کے مکروہ مقاصد کا پردہ چاک کر رہی ہیں خصوصا اس مسئلے پر اسلامی ممالک کا تغافل وتساہل ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے میں وہ صور بیداری کہاں سے لاؤں جس کی آواز سے امت مسلمہ جاگ جائے میں اپنے ہاتھوں میں وہ قوت کیسے پیدا کروں کہ سر کشتگان خواب نوم موت سے بیدار ہو جائیں سوال یہ ہے کہ کہاں ہے وہ دنیا کے منصف جن کی آنکھوں کو کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی زبوں حالی ،کسمپرسی نظر نہیں ارہی جہاں انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے لیکن پھر بھی وہ ظلم کے سامنے سراپا احتجاج ہیں تاریخ انسانی کی چشم فلک نے وہ وقت بھی دیکھا جب محمد بن قاسم ایک بہن کی پکار سن کر راجہ داہر کی سرکوبی کے لیے دریاؤں، سمندروں اور صحراؤں کا سینہ چیرتا ہوا آگیا تھا آج پھر بیٹیاں امداد کے کے لیے کسی مسیحا کی منتظر ہیں الغرض بھارت کو اپنے اسلحے کی بہتات دولت کی فراوانی کا اندھا خمار ہے جبکہ دوسری طرف وہ مجاہد اور سرفروش ہیں آزادی جن کا مقصد وحید، شہادت جن کی منزل مقصود ہے تاریخ گواہ ہے شب ظلمت خواہ کتنی ہی تاریک ہو، اندھیری ہو ڈراونی ہو اور دہجور کیوں نہ ہو اس کے بعد طلوع صبح اٹل ہے کشمیری مسلمان رحمت رب سے مایوس نہ ہوں انشاءاللہ وہ مسیحا ائے گا جو محمد بن قاسم کی للکار، غزنوی کی پکار صلاح الدین ایوبی کی تلوار ،ٹیپو کی دعا ،سراج الدولہ کی تمنا غوری کی صدا بن کر ائے گا اور کشمیر کا پاکستان کے ساتھ ادغام ہو جائے گا
94











