37

*نو مئی دوسری جنگ عظیم کا عالمی دن* *تحریر* *شمائلہ رحیم* | *جمعرات 9 مئی 2024* ء • دوسری جنگ عظیم کے اسباب متنوع اور پیچیدہ تھے

*نو مئی دوسری جنگ عظیم کا عالمی دن*
*تحریر*
*شمائلہ رحیم* | *جمعرات 9 مئی 2024* ء
• دوسری جنگ عظیم کے اسباب متنوع اور پیچیدہ تھے
ورسائی کا معاہدہ جس نے پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی پر سخت سزائیں عائد کیں۔
جرمنوں میں بڑے پیمانے پر ناراضگی اور غصے کا باعث بنی 1930 کی دہائی کی عظیم کساد بازاری نے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے جس کے نتیجے میں بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا۔ جرمنی، اٹلی اور جاپان میں فاشسٹ اور قوم پرست نظریات کے عروج نے ایک جارحانہ اور توسیع پسند خارجہ پالیسی میں حصہ ڈالا۔
جرمنی کی جانب سے رائن لینڈ کو دوبارہ مسلح کرنا اور ورسائی کے معاہدے کی خالف ورزی سے یورپ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
نازی سوویت معاہدہ جرمنی اور سوویت یونین کے درمیان ایک عدم جارحیت کا معاہدہ جس نے جرمنی کو سوویت مداخلت کے خطرے کی فکر کیے بغیر مغربی یورپ پر توجہ مرکوز کرنے کی اجازت دی۔
ستمبر 1939 میں جرمنی کے پولینڈ پر حملے کے نتیجے میں برطانیہ اور فرانس نے جنگ کا اعلان کر دیا۔
جس سے یورپ میں تنازعہ کا آغاز ہوا۔
دسمبر 1941 میں پرل ہاربر پر جاپانی حملے نے ریاست ہائے متحدہ کو تنازعہ کی طرف راغب کیا جس سے عالمی جنگ شروع ہو گئی۔
دوسری جنگ عظیم ایک عالمی تنازعہ تھا جو 1939 سے 1945 تک جاری رہا جس میں 50 سے زیادہ ممالک شامل تھے اور اس کے نتیجے میں 60 سے 80 ملین ہلاکتیں ہوئیں۔
ستمبر 1939 میں ایڈولف ہٹلر کی قیادت میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا۔ اس
ایکٹ نے برطانیہ اور فرانس کو جرمنی کے خالف اعلان جنگ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ستمبر 1939 میں سوویت یونین نے مشرق سے پولینڈ پر حملہ کیا۔
مئی 1940 میں جرمنی نے اپنے حملے کو بڑھاتے ہوئے بیلجیم، نیدرلینڈ اور فرانس تک پھیلا دیا۔ جون 1940 میں پیرس جرمن افواج کے ہاتھوں شکست خوردہ ہوا اور فرانس نے بل آخر ہتھیار ڈال دیے۔
مئی 1941 تک دی بلٹز جرمن بمباری کی مہموں کا ایک سلسلہ جاری رہا جس نے برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔
دسمبر 1941 میں جاپان نے پرل ہاربر پر
حملہ کیا، جس نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو تنازعہ کی طرف کھینچ لیا۔ 1942 میں شمالی افریقہ اور بحرالکاہل میں فتوحات کے ساتھ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے میدان مارنا شروع کیا۔
1944 میں اتحادیوں نے یورپ پر ایک زبردست حملہ کیا.
(ڈی ڈے ) 6 جون کو فرانس کے شہر نارمنڈی میں اترا اور 1945 میں سوویت افواج نے جرمنی کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیا اور ہٹلر نے اپریل میں خودکشی کر لی۔
جرمنی نے 8 مئی کو باضابطہ طور پر ہتھیار ڈال دیے اور اگست 1945 میں امریکہ نے ہیروشیما اورناگاساکی پر ایٹم بم گرا دئیے جس کے نتیجے میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیے اور 2 ستمبر
کو جنگ کا خاتمہ ہوا۔
دوسری جنگ عظیم کے
نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق 40 سے 80 ملین ہلاکتیں ہوئیں جن میں فوجی
اہلکار، شہری اور جنگی قیدی شامل تھے۔
جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی
تشکیل بھی ہوئی جس کا قیام بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور مستقبل کی جنگوں کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔
جنگ کی وجہ سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوو یت یونین سپر پاور کے طور پر نمودار ہوئیں اور دنیا کے ںقشے کو لپیٹے میں لے کر عروج حاصل کیا۔
جنگ کے نتیجے میں یورپ کو مشرقی اور مغربی بلاکس میں تقسیم کیا گیا جس میں سوویت یونین مشرقی بلاک کو کنٹرول کر رہا تھا اور امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی بلاک کو کنٹرول کر رہے تھے۔
یہ جنگ اسرائیل کی ریاست کے قیام کا باعث بھی بنی اور لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی ہوئی جن میں یہودی، جرمن اور دیگر شامل تھے جو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
جنگ کے نتیجے میں بہت سے شہروں اور کمیونٹیز کی تباہی بھی ہوئی اور عالمی نظام پر اس کا گہرا اثر پڑا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ تباہی کی حالت میں تھا۔ جنگ نے لاکھوں
یورپینز کو ہلاک اور زخمی کردیا تھا شہر اور صنعتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکیں
تھیں۔
یورپ میں جنگ کے بعدکی صورتحال میں ایک انتشار اور چیلنج تھا جس
میں اتحادیوں کو لاکھوں بےگھر لوگوں سے نمٹنےپڑا تباہ شدہ شہروں کی تعمیر
نو کرنی پڑی اور ایک نیا عالمی نظام قائم کرنا پڑا۔
نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی
بہت نقصان پہنچا سڑکیں ریلویز اور بندرگاہوں کو بری طرح نقصان پہنچا۔
جنگ نے خوراک کی پیداوار میں بھی خلل ڈالا تھا جس کی وجہ سے کچھ علاقوں
میں قحط کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
ریاست ہائے متحدہ جو جنگ سے نسبتا محفوظ
رہ کر ابھرا تھا نے مارشل پلان کے ذریعے یورپ کو اہم امداد فراہم کی جس سے صنعتوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں مدد ملی اس منصوبے سے یورپی ممالک اور امریکہ کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں بھی مدد ملی۔
یہ امداد فی کس کی بنیاد پر فراہم کی گئی تھی جو کہ پہلے سے ہی بڑے صنعتی طور پر طاقتور تھے۔جن میں مغربی جرمنی فرانس جاپان اور برطانیہ نمایاں طور پر شامل تھے۔
اس منصوبے کو یورپ میں جنگ کے بعد کی اقتصادی تیز ی کے ایک اہم عنصر کے طور پر
دیکھا گیا اور اس نے عالمی رہنما کے طور پر ریاست ہائے متحدہ کی پوزیشن کو
مستحکم کرنے میں مدد کی۔
آج بھی 9 مئی 1945 نازی ازم سے چھٹکارے کا دن کے طور پر دنیا کے بیشتر حصوں خصوصی طور پر روس میں بڑے زور و شور سے منایا جاتا ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں