59

*اٹھارہ ہزاری (تحصیل رپورٹر)ہیڈ تریموں پر افسران محکمہ فشریز کی ملی بھگت سے مچھلی کا غیر قانونی شکار اور فروخت کا انکشاف

*اٹھارہ ہزاری (تحصیل رپورٹر)ہیڈ تریموں پر افسران محکمہ فشریز کی ملی بھگت سے مچھلی کا غیر قانونی شکار اور فروخت کا انکشاف* ذرائع بتا رھے ہیں کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر فشریز محسن خان انسپکٹر اسدعباس کی ملی بھگت سے ہیڈتریموں کا وہ علاقہ یہاں پر شکار منع ہے جس میں دو مچھلی گھر 1کلومیٹراوپر والی سائیڈ اورایک کلو میٹر نیچے والی سائیڈ یہاں پر شکار کرنا منع ہے وھاں پر محسن خان اورانسپکٹر اسد عباس غیرقانونی شکار کروارہے ہیں اور بھاری کرپشن کررہے ہیں روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 60/ 70ہزارکی مچھلی مختلف لوگوں سے شکارکرواکر منڈی اوردکانوں پر فروخت کرتے ہیں اورجو کہ غیر قانونی ہے مچھلی کا چھوٹا بچہ جو کہ پکڑنا ممنوع ہے وہ پکڑ کر مختلف لوگوں کے فارموں پر فروخت کروارہے ہیں اورمحکمہ فشریز کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں جب موقف کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو موقف سے انکار کر دیا عوامی اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں