21

*جھنگ(جاوید اعوان سے) ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی پرفارمنس انڈیکیٹرز،کنونس الاؤنس سمیت مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے وعدے کے مطابق تنخواہوں میں فی الفور اضافہ کیا جائے*

*جھنگ(جاوید اعوان سے) ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی پرفارمنس انڈیکیٹرز،کنونس الاؤنس سمیت مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے وعدے کے مطابق تنخواہوں میں فی الفور اضافہ کیا جائے* وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیاکہ ہسپتالوں کے اصل سٹیک ہولڈرز سے ہنگامی بنیادوں پر ملاقات کی جائے تاکہ محکمہ صحت کو حقیقی معنوں میں ان کے ویژن کے مطابق چلایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر ڈاکٹر آصف رضا, سینئر نائب صدر حنا عباس سیال, ڈاکٹر لقمان, ڈاکٹر ملیحہ خان, ڈاکٹر عمران قریشی و دیگر عہدیداران نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب بھر میں ہسپتالوں کی شدید قلت ھے۔ تقریبا 35 ہزار ڈاکٹر بے روزگار ہیں اور المیہ یہ ھے کہ پچھلے دو سالوں میں ڈاکٹرز کی اسامیوں پر بھرتیوں کی پابندی ھے۔ہسپتال یہاں پہ پہلے ہی ڈاکٹرز ادویات اور دیگر سہولیات کی شدید قلت ھے وہاں پر ری ویمپنگ کی وجہ سے ہسپتالوں کا بڑا حصہ بند پڑا ھے۔ جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیادوں پر پنجاب بھر میں ہزاروں مریض چیک اپ اور اپریشنز سے محروم ہو رہے ہیں۔ ٹرینی ڈاکٹرز اپنی ٹریننگ سے محروم ہو رہے ہیں اور ہسپتال کا نظام مفلوج ہوا پڑا ھے جو ائے روز ہسپتالوں میں لڑائیوں کی وجہ بن رہا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ فل فور ہسپتالوں کو فنکشنل کیا جائے اور مریضوں کی بہتری کے لیے ہسپتال میں کام کرنے والے عملے کو بڑھایا جائے اور ادویات اپریشن کا سامان اور دیگر سہولیات کو مہیاکیا جائے اور ریمپنگ پراسیس کا آڈٹ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بیوروکریسی میں موجود لوگوں نے ڈاکٹرز اور مریضوں کے مسائل کو لے کر آپ کو اندھیرے میں رکھا ہے اوراپنی ذاتی انا اور مفادات کی تسکین کے لیے ہسپتالوں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں حالانکہ زمینی حقائق آپ کے ویژن اور منشور کے بالکل مخالف ہیں۔پنجاب بھر میں لگ بھگ 15 ہزار ایڈہاک ڈاکٹرز کی نوکریاں ختم کر کے ان کو دیہاڑی دار ڈاکٹر بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور باقی صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی تمام ایڈہاک ڈاکٹرز کو ریگولرکیا جائے۔پی جی آرز کی جانب سے تنخواہوں کو دوبارہ سینٹرلائز کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کئی ماہ تک تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں کا مسئلہ پنجاب بھر میں آ رہا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں تنخواہوں کا نہ ملنا ڈاکٹرز کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی اف ہیلتھ سائنسز کی ایم ڈی ایم ایس پروگرام کو لے کر نت نئی پالیسیز کی مذمت کرتے ہیں اور یکسر مسترد کرتے ہیں۔اس کو دنیا بھر میں رائج قانون کے مطابق کیا جائے بصورت دیگر سخت ردِعمل کے لیے تیار رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بھر میں رورل ہیلتھ ڈسپنسریز کی اسامیوں کو ختم کرنے کے باعث اب ڈاکٹرز کی بجائے ڈسپنسرز وہاں پر مریض دیکھ رہے ہیں جو کہ نہ صرف مریضوں کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ ان کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں