20

*جھنگ(جاوید اعوان سے)چینی ایکسپورٹ کرنے سے ملک میں چینی کا بحران اور مہنگائی کا طوفان آئیگا* *ڈاکٹر عبدالجبار خان* *سیکریٹری جنرل کسان بورڈ پاکستان*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)چینی ایکسپورٹ کرنے سے ملک میں چینی کا بحران اور مہنگائی کا طوفان آئیگا*
*ڈاکٹر عبدالجبار خان*
*سیکریٹری جنرل کسان بورڈ پاکستان*
۔۔. جب مسئلہ ملک کے دس بارہ کروڑ کسانوں کا ہو تو کوئی مسئلہ محسوس نہیں ھوتا ۔۔۔
اور جب مسئلہ دس بارہ سرمایہ دار خاندانوں کا ہو تو انکے نقصان کا احساس ھے ۔۔۔۔ جوکہ حقیقت میں نقصان بھی نہیں۔ دراصل شوگر ایڈوائزری بورڈ میں گنے سے بنائی گئی چینی اور پوری مل کے ٹوٹل اخراجات بتائے جاتے ھیں لیکن چینی سے زیادہ مہنگی پراڈکٹس ، ڈسٹلری ( الکوحل ) ، گتا ، چپ بورڈ وغیرہ کی آمدن جوکہ سراسر پرافٹ ایبل ھیں ، اسکی پروڈکشن اور آمدن نہ زیر بحث آتی ھے ، نہ ھی ان سے آمدن کا حساب بتایا جاتا ھے ۔ اور قوم کی آنکھوں میں دھول دھونکی جاتی ھے۔ کہ چینی کی پروڈکشن مہنگی پڑی ھے ۔ کیا کسان کی مکئی ، مونجی ، اور اب گندم کے پیداواری اخراجات کم تھے ۔ منافع تو درکنار حقیقی اخراجات بھی پورے نہیں ھوئے۔ لیکن قربانی کا بکرا ھمیشہ عوام کو بنایا جاتا ھے اور چند سرمایہ داروں کے مفاد کاتحفظ کیا جاتا ھے۔ کیونکہ وہ سرمایہ دار ، جاگیر دار ، شوگر مل مالکان اور انکے رشتے دار باالواسطہ یا بلا واسطہ ھر حکومت کا حصہ رھتے ھیں۔
عمران خان کی حکومت میں بھی یہی کھیل کھیلا تھا کہ ملک میں چینی زیادہ ھے ، ایکسپورٹ کردی جائے ۔ اس وقت ترین اور وزیر زراعت نے وزیر اعظم کو گارنٹی دی کہ چینی ایکسپورٹ کرنے سے ملک میں چینی کا بحران باالکل نہیں آئیگا ۔ لیکن چینی ایکسپورٹ کرنے کے ایک ماہ بعد مارکیٹ میں چینی کی شارٹیج پیدا ھونا شروع ھوئی ، پھر مافیا گینگ نے چینی امپورٹ کرنے کا کوٹہ لیا ۔ پہلے ایکسپورٹ کرنے پر اور پھر امپورٹ کرنے پر حکومت اور عوام کو ٹیکہ لگایا۔ اب دوبارہ شوگر ایڈوائزری بورذ کی آڑ میں مافیا اپنا کھیل کھیل رھی ھے اور یہ مافیا اور انکے کارندے ھمیشہ ھر حکومت میں اھم وزارتوں ، کمیٹیوں اور فیصلہ کن عہدوں پر قائم رھتے اور رکھے جاتے ھیں۔
کسان بورڈ پاکستان ایسے غیردانشمندانہ فیصلہ کو مسترد کرتا ھے اور مطالبہ کرتا ھے کہ ٹیکسز اکٹھے کرنے کیلئے اور مہنگائی کرنے کیلئے عام کسان ، تنخواہ دار ، دکاندار ، چھوٹا تاجر ، ٹیچر ، محنت کش سے ھی قربانی کیوں مانگی جاتی ھے ۔ ملک کے بڑے سرمایہ دار ، جاگیردار ، شوگر مل مالکان ملک اور قوم کیلئے اپنا کم منافع کیوں برداشت نہیں کرتے ۔
ان خیالات کا اظہار کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالجبار خان نے کیا ۔
انہوں نے مطالپہ کیا کہ چند خاندانوں کے مفاد کی خاطر چینی ایکسپورٹ کرنے کا حکومتی فیصلہ واپس لیا جائے اور ملک میں کسبنوں سمیت تمام سٹیک ھولڈرز کی مشاورت سے مستقل بنیادوں پر زرعی پالیسی تشکیل دیکر فوری نافذ کی جائے اور ملک کی زراعت اور کسان کمیونٹی کو بچایا جائے ۔ بصورت دیگر زراعت کے ساتھ ملک کی ایگرو بیسڈ انڈسٹری اور شہری کاروباری رونقیں ختم ھوکر رہ جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں