33

*بکائن، دھریک اور نیم کے درختوں میں فرق*

*بکائن، دھریک اور نیم کے درختوں میں فرق*

بکائن: Ceylon Cedar
یہ ایک گھنا اور سایہ دار درخت ھے۔ اس کے پتے، پھول اور پھل نیم کے درخت سے مشابہہ ھوتے ہیں لیکن پھل کے چار خانے ھوتے ہیں جن میں ہر خانہ میں ایک سیاہ جھلی والا بیج ھوتا ھے جو اندر سے سفید ھوتا ھے۔ اس بیج کو تخم بکائن یا پنجابی میں دھرگھونے کہا جاتا ھے۔ اس درخت کا آبائی وطن بھارت، پاکستان، چین اور آسٹریلیا کو سمجھا جاتا ھے۔ یہ درخت صرف موسم گرما میں ہرا بھرا رہتا ھے۔ خزاں اور ساری سردیوں میں ٹنڈ منڈ ھو جاتا ھے۔ اس کی اونچائی 7 سے 12 میٹر تک ھوتی ھے۔ پھول ہلکی خوشبو رکھتا ھے۔ پتے ہرے رنگ کے اور ذرا لمبے ھوتے ہیں۔ اس کا پودا بہت زیادہ اونچا نہیں ھوتا۔ چھتری کی طرح چھاؤں بناتا ھے۔

دھریک: Chinaberry Tree, Beads Tree
دھریک بڑا اور سخت تنے والا درخت ہوتا ہے لیکن چھاؤں زیادہ گھنی نہیں ہوتی۔ کاسنی رنگ کے پھول لگتے ہیں۔ اس کے پھل کو دھرگھونے کہتے ہیں، جو کہ گول اور گچھوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ بہت کڑوے ہوتے ہیں۔ دیہات میں پہلے یہ درخت بہت ہوتا تھا لیکن اب شیشم (ٹاہلی) کی طرح کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی لکڑی مضبوط لیکن ہلکی ہوتی ہے۔ پہلے زمانے میں چارپائیاں اور بیلوں سے چلائے جانے والے ہل اور جُولے عموماً اسی سے بنائے جاتے تھے۔

نیم: Neem Tree, Indian Lilac
نیم ایک گھنا اور سایہ دار درخت ہے۔ نیم کے پھل کو نمولیاں یا نمکولی کہتے ہیں۔ جب یہ پکنے پر آتا ہے تو اس میں قدرے مٹھاس سی آ جاتی ہے۔ اس لیے پرندے اور بچے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ درخت، بڑ کی مانند چاروں طرف پھیلتا ہے۔ اس کا تنا بھی موٹا ہوتا ہے۔ جب یہ درخت پرانا ہو جاتا ہے تو اس میں سے ایک قسم کی رطوبت خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے جو نہایت شیریں ہوتی ہے۔

لوگ اس کو جمع کرکے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اس کے پتے بھی طبی خواص رکھتے ہیں۔ اس کے بیجوں سے نیم آئل نکالا جاتا ہے جو کیڑے مار دوا کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ نیم کھلی مٹی میں مکس کرنے سے زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے جوشاندے میں نہانے سے خارش دور ہو جاتی ہے۔ زخموں پر بھی باندھے جاتے ہیں۔ یہ بہترین جراثیم کش درخت ہے۔ اس کی لکڑی دھریک سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر اس کے تختوں سے صندق بنا کر کپڑے رکھے جائیں تو ان کو کیڑا نہیں لگتا۔ نیم کے پتے مختلف اجناس اور کپڑوں یا کتابوں میں رکھیں تو دیمک اور دیگر کیڑے نقصان نہیں پہنچاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں