18

ڈیسٹن کا تعلق بلجیئم سے تھا جو بیس سال تک روزانہ ساٸیکل پر سرحد عبور کر کے جرمنی جاتا رہا۔

ڈیسٹن کا تعلق بلجیئم سے تھا جو بیس سال تک روزانہ ساٸیکل پر سرحد عبور کر کے جرمنی جاتا رہا۔
سرحدی محافظ اس کی تلاشی لیتے مگر سوائے ایک کپڑے کے تھیلے کے جس میں تھوڑی سی مٹی ھوتی اور کچھ نہ ملتا۔ سوال ھوتا کہ مٹی کیوں لے جاتے ھو تو جواب میں کہتا : ”اپنی ماں کی قبر پر ڈالنے کے لیے اپنے وطن کی تازہ مٹی ضروری ھے۔“ سرحدی محافظ اس جواب سے بہت متاثر ھوتے اور اکثر اسے مٹی بھرے تھیلے سمیت بخوشی جانے دیتے۔
یہ جس راستے سے جرمنی میں داخل ھوتا واپس اس راستے سے نہیں آتا تھا۔

اس کی موت کے بعد اس کی ڈائری ملی جس کے ایک صفحے پر یہ عبارت لکھی ھوئی تھی :
“میری بیوی بھی یہ بات نہیں جانتی کہ میں بیس سال تک سائیکلیں سمگل کرتا رہا ھوں۔”

اپنی منفرد چالاکی سے وہ دونوں طرف کے سرحدی محافظوں کی آنکھوں میں مٹی جھونک کر روزانہ نئی سائیکل جرمنی میں بیچ آتا۔ اس زمانے میں سائیکل جرمنی میں نایاب تھی اور کسی بھی قیمتی گاڑی کے ہم پلہ کہلاتی تھی۔

ڈیسٹن کی ڈاٸری میں ایک قول نے بڑی شہرت پاٸی :
“اگر تم کامیاب ھونا چاہتے ھو تو اپنے دشمن کے آگے ایسا ہدف رکھو جو درحقیقت تمہارا ہدف نہ ھو۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں