*جھنگ(جاوید اعوان سے)ہیلتھ اتھارٹی کے چوکیدار عاصم رضا کی غیر قانونی تقرری، تنخواہ کی وصولی کا فیصلہ سرد خانے کی نذر. انکوائری کمیٹی کے فیصلے پر ڈیڑھ ماہ سے عملدرآمد نہ ہو سکا. ہیڈ کلرک عبدالرزاق پر فائل دبانے کا الزام، ڈی ایچ او سے نوٹس لینے کا مطالبہ*
*جھنگ ہیلتھ اتھارٹی میں چوکیدار عاصم رضا کی غیر قانونی تقرری کا سنگین معاملہ انکوائری کمیٹی کے فیصلے کے باوجود ڈی ایچ او آفس کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔ کمیٹی نے واضح حکم دیا تھا کہ عاصم رضا کو دی گئی تقریباً 16 لاکھ روپے کی تنخواہیں سرکاری خزانے میں واپس جمع کروائی جائیں اور اس غیر قانونی عمل میں ملوث ڈی ایچ او آفس کے سہولت کار افسران و اہلکاروں کے نام سامنے لائے جائیں تاکہ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکے*۔
*تاہم، ذرائع کے مطابق ڈی ایچ او آفس کے ہیڈ کلرک عبدالرزاق نے انکوائری کمیٹی کے اس اہم حکم نامے پر تقریباً ڈیڑھ ماہ سے عملدرآمد نہیں ہونے دیا اور فائل کو دبا رکھا ہے۔ اس صورتحال پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے*۔
*عوامی اور سماجی حلقوں نے اس غیر قانونی تقرری اور کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے.وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب، صوبائی وزیر صحت پنجاب، صوبائی سیکرٹری صحت پنجاب، کمشنر فیصل آباد ڈویژن فیصل آباد، اور ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر سے اس سلسلے میں فوری اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ نہ صرف 16 لاکھ روپے کی رقم کی وصولی کو یقینی بنایا جائے بلکہ حکم نامہ دبائے رکھنے والے ذمہ داران اور عاصم رضا کی غیر قانونی بھرتی میں ملوث افسران کے خلاف بھی سخت محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے۔ جھنگ کے عوام نے ڈی ایچ او سے بھی نوٹس لے کر معاملے کو فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے*۔
234









