شہر محبت کے لوگ
یہ راستہ روزانہ کی بنیاد پر میرا راستہ تھا۔ جس پر برسوں بعد گزر رہا تھا میری چھوٹی بیٹی میرے ساتھ تھی جو چھٹی کلاس میں پڑھتی ہے۔ جب ماڈل ٹاون کلب چوک،لنک روڑ سے ٹاون شپ کے لئے مُڑا تو بائیں جانب کالج ہے۔ جس کو دیکھ کربیٹی بولی فادر گاڑی روکیں۔ میں نے کالج دیکھنا ہے۔ میں نے فوری کالج کے سامنے کالج کی پارکنگ میں گاڑی پارک کردی ۔ یہ قائداعظم لاء کالج ہے۔ جس کی عمارت دیکھنے قابل ہے۔ پاکستان کا سب سے اچھا لاء کالج ہے۔ یہ میری مادری علمی ہے۔ آج اتوار تھا۔ مین گیٹ کے سامنے دو مزدوربجری میں ریت اورسیمنٹ مکس کر رہے تھے۔ یہ لگتا تھا کہ مزدوراتفاق کا درس دے رہے ہوں کہ چیزیں ایک دوسرے سے جُڑ کر مضبوط ہو جاتی ہیں۔ جن کے پاس چوہدری سلیم کھڑے تھے۔ میں نے پہچان لیا تھا۔ یہ کالج کے ایم ڈی ہیں۔اُن کے دائیں جانب محترم منیراحمد تھے۔یہ کالج کے کیئر ٹیکر،چوکیدارگن مین سب کچھ تھے۔ جن کے چہرے وقت کی رفتار سے پوری طرح آشنا دکھائی دے رہے تھے۔ میں اور بیٹی پاس گئے سلام بلایا ۔ میں پچیس سال بعد کالج آیا تھا۔ تب چوہدری سلیم سوالیہ نظروں سے ہماری جانب دیکھ رہے تھے۔ میں نے تعارف کروایا کہ یہ میرا کالج ہے۔اُس سیشن کا تعارف کروایا۔ یہ بتایا کہ کالج کی بلڈنگ پہلے سڑک کی دوسری جانب تھی۔جوایف بلاک کا حصہ تھی پھر ہم دوسرے سال میں تھے جب اس کیمپس میں شفٹ ہوئے تھے۔ آج میں کئی سال بعد یہاں آیا ہوں۔ میری بیٹی کالج دیکھنا چاہتی ہے۔ چوہدری سلیم بیٹی کو مل کر بہت خوش ہوئے، پیاردیا،بٹھایا،آج کالج بند تھا۔اُن کی محبت ہے کہ فوری کالج کھلوایا میری بیٹی کو سارے کالج کا وزٹ کروایا۔ پرنسپل آفس،ایڈمن بلاک،لائبریری،کلاس رومز،کانفرنس ہال،کنٹین،بک شاپ،کشادہ لان وزٹ کروایا۔ میری بیٹی کے ساتھ تصویریں بنوائیں،اُن کا علم کی طالب چھوٹی سی بچی کے ساتھ محبت کا یہ والہانہ اِظہار تھا۔ میں بیٹی کے چہرے پر خوشی اور خوشی کے ساتھ اطمینان دیکھ کرصدیاں جی گیا۔ میری بیٹی پاپا کی بجائے مجھے فادر بولتی ہے۔ وہ میری جانب دیکھ کر ہنسی اور بولی کہ آپ کا کالج بہت خوبصورت ہے۔ مجھے کالج کا تین سال کا زمانہ یاد آگیا۔ جب میں گرایجوایشن کے بعد گاوۤں سے پنجاب یونیورسٹی ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لینے آیا تھا۔ تب یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ لیٹ ہوگئے ہیں۔آپ آئندہ سال آئیے گا۔ میں کیمپس پل سے وین میں بیٹھ کر ٹاون شب جارہا تھا۔جب لاہور ماڈل ٹاون کلب چوک سے ایف، جی، بلاک لنک روڈ پر پہنچا تو قائداعظم لاء کالج نظر آیا۔ میں گاڑی سے اُتر گیا۔ میں کالج کے مین گیٹ پرکھڑا تھا۔ ایک وقار سے چلتی لڑکی نے خوش آمدید کہا اورلاء کالج کے اندر بلا لیا۔ یہ میڈم شرمین تھیں۔ اِس کالج سے لاء گریجوایٹ ہیں۔ جو بلا کی بااخلاق اورمتحرک تھیں۔ اِس کالج کو اک معیار تک لانے میں اُن کا کلیدی کردار تھا۔ وہ مجھے کالج پرنسپل نفیر اے ملک کے پاس لے گئیں۔ جو خوبصورت آدمی تھے۔ ایک زمانہ ہوا دوبارہ ملاقات نہیں ہوسکی۔ انہوں نے مجھے قانون کے حوالے سے مستقبل اورمستقبل میں کامیابیوں کے خواب دکھائے،داخلہ فارم،کالج پراسپیکٹس دیں جبکہ کالج فیس میں رعایت بھی دی۔ آج کالج کا پہلا دن یاد ہے۔ میں ٹاون شپ میں اپنے ماموں مقبول احمد کے پاس رہنے لگا۔ میں سائیکل پر یا وین پر کم، زیادہ پیدل کالج جاتا تھا۔ میری کالج آتے جاتے اُردو کے معروف شاعر منیر نیازی صاحب سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی۔ جن کا گھر ہمارے قریب ہی تھا۔ لنک روڈ پر تھوڑا آگے جاتا تو وہاں معروف کامیڈین انور علی صاحب سے بھی ملاقات ہو جاتی جنہوں نے وہان کتابوں کی دکان بنا رکھی تھی، میرے کالج کے پرنسپل جناب محترم نفیر ملک صاحب تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ ہمیں انگلش جیورسپروڈینس پڑھاتے تھے، اُن کا پریڈ ہوتا تو کلاس میں تل دَھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی اور پن ڈراپ سائیلنس ہوتی،،بلکہ یونیورسٹی لاء کالج سے سٹوڈنٹ بھی آتے تھے، ان کے لیکچر کمال کے ہوتے تھے طلبہ میں نئی روح پھونک دیتے تھے۔ ہمیں جناب شکیل چغتائی صاحب کنٹریکٹ ایکٹ،پرنسپلز آف ایکویٹی پڑھاتے تھے۔ وہ نہایت خوش اخلاق،خوش لباس،خوش شکل انسان تھے۔ ان کے والد سیف چغتائی اردو،پنجابی کے بلند پایہ شاعر تھے۔ ہمارے اُستاد شکیل چغتائی بھی پنجابی، اُردو کے اچھے شاعر ہیں۔ وہ بڑی محبت سے پیش آتے،میرا دیہاتی پس منظر دیکھتے ہوئے اکثر مجھے کہتے شاہد محمود میری خواہش اور دعا ہے کہ تم لاء کرو اور زندگی میں کچھ بن کر دکھاوۤ،اُن کے ساتھ بعد میں ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ وہ کینیڈا جا کر بس گئے ہیں۔ جن سے فیس بک،واٹس ایپ پر کبھی کبھار بات ہو جاتی ہے۔ ہمیں محترم الطاف الرحمان خان (ر) ونگ کمانڈرلاء آف ٹارٹ،سول پروسیجر کوڈ، لاء آف ڈرافٹنگ اینڈ پلیڈنگ پڑھاتے تھے۔ان کا لیکچر دلچسپ ہوتا تھا۔وہ محنتی اور ذہین آدمی ہیں ،لاہورہائیکورٹ پریکٹس کرتے ہیں۔ ہم ہائی کورٹ جائیں توملاقات ہوجاتی ہے۔ دبلے پتلے سمارٹ اردو کے شاعر ناصر کاظمی کے ہم شکل محترم جناب جاوید شیخ ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ،پارٹنرشپ ایکٹ، ٹرسٹ ایکٹ پڑھاتے تھے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ پریکٹس کرتے تھے۔ اُن سے بعد میں ملاقات نہیں ہوئی۔ گورے چٹے،سرخ وسپید،بھاری بھرکم محترم جناب نعیم طاہر صاحب کمپنی آرڈیننس پڑھایا کرتے تھے ۔ جو بعد میں ایڈیشنل سیشن جج ہوگئے تھے۔ جب سیالکوٹ تعینات تھے تو اُن سے ملاقات ہو جاتی تھی، پھر سیشن ججی چھوڑ کر ہائیکورٹ پریکٹس شروع کرلی۔ جناب جسٹس ریٹائرڈ افضال حیدر صاحب محمڈن لاء پڑھایا کرتے تھے۔ وہ وسیع المطالعہ،بارعب شخصیت کے مالک تھے، اللہ پاک کو پیارے ہوگئے تھے خدا غریق رحمت کرئے۔ ہمیں محترم سعید صاحب اسلامک جیورسپروڈینس پڑھاتے تھے۔وہ اسکالر،موٹیویشنل سپیکر،جیورسٹ آدمی تھے۔ جو کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ پریکٹس کرتے تھے۔ ہمیں انکم ٹیکس کا مضمون زوانورین پیرزادہ پڑھاتے تھے۔وہ خوب صورت،جوان وجہہ،سرخ و سپید رنگت کے مالک تھے۔ وہ ٹی وی آرٹسٹ تھے۔وہ جوانی میں ہی دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ جناب محترم غلام سرور نہنگ ایزمنٹ ایکٹ پڑھایا کرتے تھے جو قابل استاد تھے۔میاں پرویز صاحب پاکستان پینل کوڈ پڑھایا کرتے تھے۔ وہ ایڈیشنل سیشن جج تھے۔ وہ خوش اخلاق باہمت تھے اور پڑھانے کا انداز دلچسپ ہوتا تھا۔ ایک بوڑھے ریٹائرڈ مجسٹریٹ صاحب تھے وہ کریمنل پروسیجر کوڈ پڑھاتے تھے۔ جناب شبر رضا رضوی صاحب 1973ء کا آئین پاکستان پڑھاتے تھے۔ وہ بعد میں ایڈووکیٹ جنرل اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس بن گئے تھے۔ محترمہ عذرا رضوی پرنسپلز آف ایتھکز،برطانوی قانون کی تاریخ پر لیکچرز دیتی تھیں۔محترم نثار صفدر ایڈووکیٹ امریکی آئین،قانون،اُس کی ہسٹری پڑھاتے تھے جو وسیع مطالعہ انسان دوست انسان تھے۔ وہ نوائے وقت میں کالم لکھا کرتے تھے۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خاں کے رہنے والے تھے اورلاہور ہائی کورٹ پریکٹس کرتے تھے بوڑھے آدمی تھے بعد میں وفات پاگئے تھے اللہ پاک غریق رحمت کرے ۔ سید نیاز علی شاہ صاحب ایڈوکیٹ انٹرنیشنل لاء پر کمانڈ رکھتے تھے۔ جو کئی کتابوں کے مصنف تھے۔اُن کا پڑھانے کا انداز نہایت دلچسپ ہوتا تھا۔ ہمیں انٹرنیشنل لاء پڑھاتے تھے۔ میرے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے مجھ ناچیز کو اپنی کتاب دستخط کر کے گفٹ دی تھی۔ محترمہ بشری ایڈوکیٹ صاحبہ لاہور ہائیکورٹ پریکٹس کرتی تھیں باہمت، با اخلاق خاتون تھیں۔ وہ پاکستان کی آئینی ہسٹری، رجسٹریشن ایکٹ پڑھاتی تھیں۔ جناب جسٹس (ر) اللہ نواز وسایا،جناب ایس ایم ظفر،محترمہ عاصمہ جہانگیر، جناب اعتزاز احسن،جناب خالد رانجھا اور قانون کی دنیا کی کئی نامور شخصیات کے اسپیشل لیکچرز ہوتے تھے۔ جو علم واَدب کے بحر بے کراں تھے۔ چوہدری سلیم کالج کےایم ڈی اورچوہدری یونس ڈائریکٹر تھے۔ ہمارے بھائیوں جیسے دوست موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ بڑے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس بیٹھ کر دوسرا چھوٹا محسوس نہ کرے۔ میرے کلاس فیلوز جن کے ساتھ تین سال کا عرصہ گزرا وہ یاد آتے ہیں۔ کیا کمال ہستیاں تھیں۔ جناب مجاہد نقوی حیدرآباد تھل سے تھے۔ وہ محبت کرنے والے انسان تھے۔ اب لاہور ہائیکورٹ پریکٹس کرتے ہیں۔ یونس اعوان لائق محنتی سٹوڈنٹ تھے۔ وہ لاء کے بعد سول جج بن گئے پھر چھوڑ کر انکم ٹیکس فیلڈ میں پریکٹس کرنے لگے۔ چوہدری اصغر سرگودھا بھلوال سے تھے۔ جن کے مالٹا کے باغات تھے۔ وہ چوہدری آدمی تھے۔ وہ لاء کے بعد نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرجبکہ آج کل ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب ہیں۔ میرے بڑے عزیز دوست اوکاڑہ سے ریحان علی لاء کے بعد ایل ایل ایم کرنے انگلینڈ چلے گئے پھر مانچسٹر کو پیارے ہو گئے وہاں ہی بس گئے۔ محترم شفقت رسول اوکاڑہ میں پریکٹس کر رہے ہیں،عمران نذیر اوکاڑہ سے تھے جو سول جج بن گئے تھے۔ آج کل ایڈیشنل سیشن جج ہیں۔ محترم ذیشان تیمور گیلانی گورے چٹے دلچسپ شخصیت کے مالک جو لاہور ہائیکورٹ پریکٹس کرتے ہیں۔ محترم عمران شہزاد لنک روڈ ماڈل ٹاوۤن کے رہنے والے تھے۔ بھاری بھرکم بلا کا ذہین سٹوڈنٹ تھا۔ جو فیس بک پر نظرآ جاتے ہیں۔ محترم ساجد کھڈیاں قصور سے تھے۔ وہ جوانی میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ محترم اسلم بھر پورجوان ایچ بلاک ماڈل ٹاوۤن کے رہنے والے تھے۔جو دلچسپ خوش اخلاق شخصیت کے مالک تھے۔ محترمہ ثمینہ اور محترمہ سمیرا اکھٹی کالج آتی تھیں۔وہ محنتی سٹوڈنٹ تھیں، محترمہ مریم خاں سلجھی ہوئی،نفیس اور زہین لڑکی تھی،انگریزی روانی سے بولتی تھی بلکل انگریزوں کی طرح وہ۔ ایک اور شخصیت کیتھرائین،نیروبی،کینیا کی رہنے والی تھی۔ جو اکثر اپنے ملک کے حالات بتایا کرتی۔ وہ بعد میں اپنے ملک چلی گئی تھی۔ ایک با اخلاق لیڈی تھیں جو کالج کنٹین، بک شاپ چلاتی تھیں اُن کا نام یاد نہں رہا،وہ چائے اور کافی کمال کی بناتی تھیں۔ اُن کی چائے پی کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ غبار خاطر والے ابو الکلام آزاد نے چائے بنانا اُن سے ہی سیکھا ہو۔ ہمیں چائے،کافی کی عادت یہی سے پڑی تھی۔ ہم تفریح میں چائے اور کافی پیتے تھے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ وقت کی تقسیم نے کیا کچھ تقسیم کردیا ہے۔ جن کے چہرے یادوں کی کتاب سے مٹتے جا رہے ہیں۔اُن کی یادوں کے نقوش ذہن اور دل کی دیواروں سے اڑتے چلے جا رہے ہیں۔ بس دھندلے دھندلے خاکے ماضی کی زمیں پر بکھرے پڑے ہوئے ہیں۔ ہم ابھی ابھی تو یہاں تھے، کہاں گئے وہ لوگ جو راحتِ جاں تھے،آسمان ودل رُبائی تھے ۔ یہ سب میرے شہرِ دل کے لوگ ہیں۔ جو دل کے آس پاس رہیں گے، ہمیشہ دل میں زندہ رہیں گے۔ آج بیٹی کا کالج دیکھنا مجھے یادوں کی وادی میں لے گیا، لمحوں میں صدیاں جی گیا، میری بیٹی نے میرے بائیں ہاتھ کی انگلی مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی۔ ہم چوہدری سلیم سے مل کر مڑے تو میری آنکھوں سے دو آنسو گال تک پہنچ چکے تھے۔ میں نے لمحہ ضائع کئے بغیر دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے،ماتھے سے ٹھوڑی تک چھوٹی انگلی سے اُن کو گالوں سے اُٹھا کر سینے سے لگا لیا،بیٹی کا ہاتھ پکڑا گاڑی کی جانب چل پڑے،ایک نظرکالج دیکھا اور باہر نکل آیا ۔ میری بیٹی بولی فادر آپ کا گزرا وقت اچھا تھا۔ یہ لوگ آج بھی احترام سے پیش آئے میں اس پر ہنس دیا تھا جبکہ بیٹی بار بار بول رہی تھی فادر میں مزاق نہیں کر رہی ہوں۔ سچی میں سچ بول رہی ہوں ۔۔۔
شاہد محمود سیالکوٹ
09.10.2025









