205

*جھنگ(جاوید اعوان سے)شادی ہالز میں حفظان صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی: ‘فی کس خرچہ، مگر سہولیات ندارد!’*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)شادی ہالز میں حفظان صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی: ‘فی کس خرچہ، مگر سہولیات ندارد!’*
*شہر کے شادی ہالز کی انتظامیہ مہمانوں سے ‘فی کس’ (per head) کے حساب سے فنکشن کا بھاری خرچہ وصول کرنے کے باوجود حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر رہی ہے، جس پر شہریوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک حالیہ شکایت کے مطابق، یہاں مہمانوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے.وہاں نو افراد کے لیے صرف چار گلاس پانی پینے کے لیے دیے جا رہے ہیں*۔
*ایک شہری نے ہال انتظامیہ سے اس سلسلے میں استفسار کیا تو انہیں غیر ذمہ دارانہ جواب ملا کہ “ہماری روٹین ہی ایسے ھے*۔” *یہ صورتحال اس وقت زیادہ تشویشناک ہو جاتی ہے جب محکمہ صحت ایک دوسرے کے گلاس میں پانی پینے سے منع کرتا ہے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے*۔
*شادی ہالز میں حفظان صحت کے بارے میں احتیاطی تدابیر بالکل نہیں برتی جا رہی ہیں۔ فی کس چارجز وصول کرنے کے باوجود، ضروری سہولیات جیسے مہمانوں کی تعداد کے مطابق گلاس اور دیگر اشیاء کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی*۔
*کم گلاسوں کی وجہ سے مہمان مجبوراً ایک ہی گلاس کو باری باری استعمال کرتے ہیں، جو محکمہ صحت کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی ہے*۔
*جس کی وجہ سے ایک دوسرے کے گلاس استعمال کرنے سے وبائی امراض اور جراثیم کے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے*۔
*ہال انتظامیہ کا یہ کہنا کہ “یہ ہماری روٹین ہے*” *صارفین کے حقوق اور حفظان صحت کے ضوابط کے خلاف غیر معیاری طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے*۔
*شہریوں نے فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ جھنگ سے اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے*۔ *ہالز کو سخت ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ مہمانوں کی تعداد کے مطابق تمام سہولیات، بالخصوص پانی پینے کے لیے صاف اور وافر گلاس فراہم کریں۔ اس کے علاوہ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے ہالز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں