130

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈی ایچ کیو ہسپتال کے اطراف غیر قانونی اور جعلی لیبارٹریز کا گٹھ جوڑ، اعلیٰٰ سطحیٰ انکوائری کا مطالبہ*

*جھنگ(جاوید اعوان سے)ڈی ایچ کیو ہسپتال کے اطراف غیر قانونی اور جعلی لیبارٹریز کا گٹھ جوڑ، اعلیٰٰ سطحیٰ انکوائری کا مطالبہ*
*ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (DHQ) جھنگ کے بالکل سامنے غیر قانونی اور مبینہ طور پر دو نمبر کلینیکل لیبارٹریز کا ایک وسیع گٹھ جوڑ عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے، لیکن ضلعی محکمہ صحت کے اعلیٰٰ حکام کی بظاہر چشم پوشی ‘چراغ تلے اندھیرا’ کی مصداق ہے۔ شہری اور سماجی حلقوں نے فوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے اس معاملے کی انکوائری کا سخت مطالبہ کیا ہے*۔
*اہم ادارے خاموش*، *شہریوں میں تشویش*
*شہری حلقوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ڈی ایچ کیو ہسپتال کے قرب و جوار میں درج ذیل لیبارٹریز بغیر کسی خوف کے اپنے آپریشنز چلا رہی ہیں اور ان کی درستگی اور قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں*:
*رفاہ لیبارٹری گوجرہ روڈ*
*توحید بائیو ٹیک*
*پنجاب لیبارٹری*
*چغتائی پلس لیبارٹری*
*ھارمون لیبارٹری*
*شفا لیبارٹری*
*بیسٹ ون لیب*
*رائل لیبارٹری*
*خالد لیبارٹری*
*عوامی شکایات کے مطابق، یہ لیبارٹریز نہ صرف مریضوں کو غلط یا غیر معیاری ٹیسٹ رپورٹس فراہم کر تی ہیں بلکہ مبینہ طور پر یہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (PHCC) کے لازمی قواعد و ضوابط کی بھی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی مراکز کی موجودگی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اتھارٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جھنگ اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل جھنگ کی ‘نظروں سے اوجھل’ رہنے کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ یا تو مکمل غفلت برتی جا رہی ہے یا پھر کسی ‘مالی چمک’ یا دیگر مفادات کی بنا پر ان کے خلاف کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے*۔
*اعلیٰ سطحیٰ انکوائری کا مطالبہ*
*عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غریب عوام پر ترس کھانے کی اپیل کی ہے، جن کی صحت اور تشخیص کا انحصار ان لیبارٹریز پر ہوتا ہے۔ انہوں نے مندرجہ ذیل اعلیٰٰ حکام سے فوری اور سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے*:
*وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف چیف سیکریٹری پنجاب صوبائی وزیر صحت پنجاب صوبائی سیکرٹری صحت پنجاب کمشنر فیصل آباد ڈویژن فیصل آباد ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈرمطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحیٰ انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو نہ صرف ان تمام لیبارٹریز کی قانونی حیثیت اور معیار کی جانچ کرے بلکہ ضلعی محکمہ صحت کے ان افسران کے کردار کی بھی تحقیقات کرے جن کی غفلت کے سبب یہ غیر قانونی کاروبار پھل پھول رہا ھے*۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں